پاکستان کا مایوس کن دورہ اختتام کو پہنچا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فواد عالم 38 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے

بیٹسمینوں کی ایک اور ناقص کارکردگی نے پاکستانی ٹیم کو سری لنکا میں اس کے کم ترین سکور 102 پر آؤٹ ہونے کی خفت پر مجبور کردیا۔

سات وکٹوں کی اس شکست کے ساتھ ہی پاکستانی ٹیم کو ون ڈے سیریز میں بھی دو ایک کی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور اس کا یہ مایوس کن دورہ بھی اختتام کو پہنچا جس میں اسے دونوں ٹیسٹ میچوں میں بھی شکست ہوئی۔

دمبولا کی وکٹ کو بھاری سکور اور سپنرز کے لیے موافق جان کر ہی مصباح الحق نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کو ترجیح دی لیکن بیٹسمینوں کی غیرذمہ داری نے دونوں باتیں غلط ثابت کردکھائیں کیونکہ ٹیم کو اس حال پر پہنچانے والے درمیانی رفتار والے سری لنکن تیز بولرز تھے ۔

تشارا پریرا نے 34 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔

کولاسیکرا کی جگہ ٹیم میں آنے والے دھمیکا پرساد نے دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔

پاکستانی ٹیم نے آخری میچ میں برائے نام ایک تبدیلی کرتے ہوئے جنید خان کی جگہ سعید اجمل کو شامل کیا یوں ذوالفقار بابر ایک بار پھر کھیلے بغیر رہ گئے۔

پاکستانی بیٹسمین اننگز کے 14ویں اوور میں ہی ٹیم کی قسمت کا فیصلہ کرچکے تھے۔

شرجیل خان کو پچھلے میچ میں نو رنز کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ایک اور موقع دیا گیا لیکن انھوں نے اپنے ہاتھ سے اسے ضائع کیا۔

پرساد کی گیند پر انھوں نے بغیر کوئی رن بنائے اپنی وکٹ سلپ میں جے وردھنے کو تھمائی۔

پرساد نے احمد شہزاد کو پریرا کے ہاتھوں کیچ کرایا اور جب لستھ مالنگا نے ’ پروفیسر‘ کو ایل بی ڈبلیو کیا تو پاکستان کا سکور صرف 14 رنز تھا۔

کپتان مصباح الحق اور فواد عالم نے اسکور سنتالیس تک پہنچایا لیکن مصباح الحق کے رن آؤٹ نے مایوسی بڑھادی۔

اس سیریز میں مصباح کا آؤٹ آف فارم ہونا ٹیم پر بجلی بن کر گرا ہے لیکن سوال دوسرے بیٹسمینوں کی غیرذمہ داری کا بھی ہے۔

عمراکمل نے بھی کچھ نہ کردکھانے کی ریت برقرار رکھی۔ پہلے دو میچوں میں 15 اور ایک رن بنانے کے بعد وہ اس بار صرف سات رنز بناکر چل دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنگاکارا نے 2 رنز بنائے

صہیب مقصود بھی سات اور آفریدی دو رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو فواد عالم کے لیے صرف ٹیل اینڈرز بچے تھے۔

وہ 38 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے لیکن سری لنکن بولرز نے دوسرے اینڈ سے بساط102 رنز پر لپیٹ دی۔

اس سے قبل پاکستانی ٹیم کا سری لنکا میں سب سے کم سکور آٹھ وکٹوں پر 125 رنز تھا جو اس نے1986 میں موراتووا میں بنایا تھا۔

ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت سری لنکا کو 48 اوورز میں101 کا نظرثانی شدہ ہدف ملا تو تلکارتنے دلشن میچ کو جلد سے جلد ختم کرتے دکھائی دیے انھوں نے وہاب ریاض کے ایک ہی اوور میں تین چوکے جڑ دیے۔ محمد عرفان بھی ان کی جارحیت سے خود کو نہ بچاسکے۔

دلشان کی 50 رنز کی اننگز میں نو چوکے شامل تھے۔

سری لنکا نے تھارنگا سنگاکارا اور جے وردھنے کی وکٹیں گرنے کے بعد 19ویں اوور میں مطلوبہ سکور پورا کردیا۔

اسی بارے میں