پریکٹس نہ ہونے سے کارکردگی متاثر ہوئی، مصباح

تصویر کے کاپی رائٹ PCB
Image caption میں خود پر کوئی دباؤ محسوس نہیں کر رہا ہوں کیونکہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ہمیشہ دباؤ ہوتا ہے: مصباح الحق

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان نے منگل کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور کوچ وقاریونس سے ملاقاتیں کیں۔

دونوں قذافی سٹیڈیم لاہور میں شہریار خان سے الگ الگ ملے۔

ان ملاقاتوں کامقصد سری لنکا کے حالیہ دورے میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔

سری لنکا کے دورے میں پاکستانی ٹیم ٹیسٹ سیریز دو صفر جبکہ ون ڈے سیریز دو ایک سے ہارگئی تھی۔

ٹیم کی اس مایوس کن کارکردگی کے باوجود شہر یار خان یہ واضح کرچکے ہیں کہ مصباح الحق کو ورلڈ کپ تک کے لیے کپتان بنایا جاچکا ہے لہذا ایک سیریز کے خراب نتائج پر انھیں اس عہدے سے ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

مصباح الحق نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین سے ملاقات کے بعد کہا ’ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد پاکستانی ٹیم کو انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کو نہیں ملی جو سری لنکا میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کی بنیادی وجہ تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ اس عرصے میں کرکٹرز کو ڈومیسٹک کرکٹ بھی نہیں ملی کیونکہ سیزن ختم ہوچکا تھا۔

مصباح الحق کے مطابق بلے بازووں نے اپنے طور پر بہت کوشش کی لیکن چونکہ کافی وقت سے نہ کھیلنے کی وجہ سے وہ ردھم میں نہیں تھے لہذا انھیں تگ ودو کرنی پڑی۔

اپنی بیٹنگ کے بارے میں مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ ٹیم کی ناکامی کا ایک بڑا سبب ان کا فارم میں نہ ہونا تھا۔ انھیں احساس ہے کہ وہ اپنا حصہ ادا نہ کرسکے۔ جب آپ سینئیر بلے باز کی حیثیت سے کھیلتے ہیں تو آپ کا حصہ نمایاں ہوتا ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ وہ خود پر کوئی دباؤ محسوس نہیں کر رہے ہیں کیونکہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ہمیشہ دباؤ ہوتا ہے اور اگر آپ اسے اپنے دماغ پر سوار کر لیتے ہیں تو پھر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔

مصباح الحق نے کہا کہ وہ جلد سے جلد اپنی کھوئی ہوئی فارم میں واپس آنے کی کوشش کریں گے۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ وہ کپتان کی حیثیت سے وہ ٹیم سلیکشن میں اپنی رائے ضرور دیتے ہیں لیکن حتمی ٹیم سلیکشن کمیٹی منتخب کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ٹیم کی خراب کارکردگی پر فوری طور پر کوچنگ سٹاف پر تنقید درست نہیں ہے کیونکہ کوچز ہر کھلاڑی پر محنت کرتے ہیں لیکن مطلوبہ نتائج فوراً حاصل نہیں ہوجاتے۔

اسی بارے میں