’مرلی دھرن ہوتے تو وہ بھی معطل ہو جاتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان کرکٹ بورڈ نے سعید اجمل کو بولنگ ایکشن کی درستگی کے لیے قائم کردہ اپنی کمیٹی کے سامنے پیر کو پیش ہونے کےلیے کہا ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سعید اجمل کی معطلی کے بارے میں آئی سی سی سے اپیل کا ارادہ ترک کردیا ہے۔

بورڈ سیعد اجمل کے بولنگ ایکشن کی درستگی کا کام شروع کرکے انھیں جلد سے جلد بین الاقوامی کرکٹ میں واپس لانا چاہتا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان کا کہنا ہے کہ مشکوک بولنگ ایکشن کے بارے میں آئی سی سی اب میڈیکل بنیاد پر شواہد کواہمیت نہیں دیتی۔ ’اگر آج مرلی دھرن ہوتے تو وہ بھی معطل ہوجاتے۔‘

شہر یار خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اگر اپیل کرتا تو آئی سی سی انہی شواہد کو اہمیت دیتی جو برسبین کی لیبارٹری میں سامنے آئے اور ظاہر ہے وہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

شہر یار خان کو امید ہے کہ ثقلین مشتاق کے علاوہ پاکستان کے پاس جو کوچز ہیں ان کی مدد سے سعید اجمل کے بولنگ ایکشن میں بہتری تین سے چھ ہفتے میں ہو جائےگی تاکہ وہ عالمی کپ میں حصہ لے سکیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سعید اجمل کو بولنگ ایکشن کی درستگی کے لیے قائم کردہ اپنی کمیٹی کے سامنے پیر کو پیش ہونے کےلیے کہا ہے۔

دوسری جانب سابق آف سپنر ثقلین مشتاق نے لندن سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ انھیں لوگوں کی اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈھلتی عمر کے سبب سعید اجمل کے لیے اپنا بولنگ ایکشن درست کرنا ممکن نہ ہوگا۔

ثقلین مشتاق 22 ستمبر کو پاکستان پہنچ رہے ہیں اور کہا کہ وہ سعید اجمل کے بولنگ ایکشن سے متعلق تازہ ترین رپورٹ اور ان کی تمام تر فوٹیجز دیکھ کر اپنا کام شروع کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ابھی اس بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرسکتے لیکن وہ نہ امید بھی نہیں ہیں اور سعید اجمل کو اس مشکل سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں