’دوسرا‘جو ٹیبل ٹینس کی گیند سے شروع ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پہلے ہی ٹیسٹ میں پہلی وکٹ ’دوسرا‘ کے ذریعے حاصل کی تھی: ثقلین مشتاق

لاہور کے علاقے قلعہ گجر سنگھ کے ایک مکان کی چھت پر کرکٹ کھیلنے والے ایک نوعمر لڑکے کی ہر وقت یہی سوچ رہتی تھی کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جو اس سے پہلے کسی نے بھی نہ کیا ہو اور وہ اس کام کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں مشہور ہو جائے۔

پھر ایک دن وہ بھی آگیا جب یہ لڑکا اپنے ایک خاص کام کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا گیا۔

آج کرکٹ کی دنیا میں آف سپنرز کی مخصوص گیند ’دوسرا‘ کا ذکر پاکستان کے ثقلین مشتاق کے بغیر ادھورا ہے کیونکہ یہ انھی کی ایجاد کردہ ہے۔

ثقلین مشتاق سے جب میں نے پوچھا کہ ’ دوسرا‘ کی ایجاد کا پس منظر کیا ہے تو وہ ماضی میں کھوگئے:

’میں اپنے گھر کی چھت پر ٹیبل ٹینس کی گیند سے کرکٹ کھیلتا تھا جس پر میں ٹیپ چڑھا دیتا تھا اور گھنٹوں پریکٹس کرتا رہتا تھا۔ مجھے شروع سے سپن بولنگ پسند تھی اور میں پانچوں انگلیوں کو استعمال کرتے ہوئے مختلف انداز کی گیندیں کرتا لیکن ساتھ ہی یہ بھی سوچتا رہتا تھا کہ کوئی ایسی گیند کروں جو عام گیندوں سے بالکل ہٹ کر ہو۔‘

ثقلین کا کہنا تھا کہ ’ایک دن میں نے ایک گیند کی جو آف سپن ہونے کے بجائے دوسری طرف مڑ گئی مجھے وہ اچھی لگی اور میں نے سوچا کیوں نہ اس پر مہارت حاصل کی جائے۔ میں نے اسے ٹینس بال پر آزمایا لیکن کرکٹ کی سرخ گیند پر اس میں مہارت حاصل کرنے میں مجھے کچھ وقت لگا کیونکہ وہ عام گیندوں سے بہت سخت تھی۔‘

ثقلین مشتاق کو لڑکپن کا وہ دور بہت اچھا لگتا ہے جب وہ محلے کی کلب کرکٹ کے مقبول ترین کھلاڑی ہوا کرتے تھے۔

’میرے والد نے میرا شوق دیکھ کر مجھے کلب کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی تھی۔ محلے والوں کو بھی میری بولنگ کا اچھی طرح پتہ چل گیا تھا اور ہر ٹیم کی خواہش ہوتی تھی کہ میں اس کی طرف سے کھیلوں۔‘

’وہ مجھے پروفیشنل کرکٹر کے طور پر کھلاتے تھے کہ اگر میچ جتوایا تو خوب کھلائیں، پلائیں گے۔ کبھی لسّی کے گلاس، کبھی حلوہ پوری کا ناشتہ تو کبھی سری پائے۔ میں اپنی اس گیند ’دوسرا‘ سے کلب کرکٹ میں بہت وکٹیں لے رہا تھا پھر پاکستان یوتھ اور پی آئی اے میں آنے کے بعد اس گیند پر زیادہ کنٹرول آ چکا تھا۔‘

اس سوال پر کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ’دوسرا‘ پہلی بار کب استعمال کیا، ثقلین نے کہا کہ ’پہلے ہی ٹیسٹ میں اس کا استعمال کیا تھا اور میری پہلی ٹیسٹ وکٹ ہتھورو سنگھے کی تھی وہ ’دوسرا‘ ہی پر آؤٹ ہوئے تھے۔‘

ثقلین اپنی اس مخصوص گیند کو موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا سہرا سابق وکٹ کیپر معین خان کے سر باندھتے ہیں۔

’میں نے 18 سال کے نوجوان کی حیثیت سے انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھا تھا میرے پاس ایک ہنر موجود تھا لیکن اسے کس طرح استعمال کرنا ہے اس کی سمجھ بوجھ نہیں تھی۔ اس موقعے پر معین خان نے میری رہنمائی کی اور سمجھایا کہ مجھے اس گیند کا استعمال کب اور کیسے کرنا ہے۔

’وہ وکٹ کے پیچھے سے آواز لگاتے تھے ’’ثقی، دوسرا!‘ ہماری یہ گفتگو انگریز کمنٹیٹروں کے لیے نئی تھی، تاہم بعد میں انھیں بھی پتہ چل گیا کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ بعض اوقات بیٹسمینوں کو دھوکہ دینے کے لیے یہ بھی کرنا پڑتا تھا کہ جب معین خان آواز لگاتے کہ دوسرا کرو تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ نہ کرو۔‘

معین خان نے اس مخصوص گیند کا نام دوسرا پڑ جانے کی وجہ یہ بتائی:

’میں وکٹوں کے پیچھے سے جب ثقلین کو اردو میں ’’دوسرا‘‘ کرانے کو کہتا تو اردو نہ سمجھنے والوں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ کیا ہے لیکن غیرملکی کمنٹیٹروں کو ہمارے کمنٹیٹروں کے ذریعے دوسرا کا مطلب معلوم ہوا اور اس کے بعد دنیا بھر میں یہ گیند دوسرا کے نام سے ہی مشہور ہوگئی۔‘

اسی بارے میں