’سہولتیں تو دو، تمغہ میں جیتوں گا‘

Image caption محمد وسیم نے کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا

پاکستانی باکسر محمد وسیم کو اپنی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ ایشین گیمز میں تمغہ جیت سکتے ہیں۔

محمد وسیم نے حالیہ کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتا اور اب ان کی نظریں ایشین گیمز سے ہوتے ہوئے اولمپکس پر جاکر ٹھہری ہیں۔

محمد وسیم نے ایشین گیمز میں شرکت کے لیے انچیون ( جنوبی کوریا ) روانگی سے قبل بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی باکسرز میں بڑے بین الاقوامی مقابلوں میں تمغے جیتنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے لیکن پاکستانی باکسرز کو ٹریننگ کی بہترین سہولتیں میسر نہیں ہیں اس کے باوجود وہ اپنے بلند حوصلوں کے بل پر غیرممالک میں جاکر کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔

محمد وسیم نے قزاقستان میں منعقدہ اولمپکس کے کوالیفائنگ راؤنڈز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی شاید اس بات کا احساس نہ ہو کہ انھوں نے کتنی سخت ٹریننگ کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’جب ہم وہاں گئے تو ہمیں رہائش تک میسر نہیں تھی اور ہم اسٹیڈیم کی سیڑھیوں کے نیچے سوتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان حالات کے باوجود وہ کوارٹرفائنل تک پہنچے تھے جس میں انہیں منگولیا کے باکسر سے شکست ہوئی تھی اگر وہ کامیاب ہوجاتے تو وہ لندن اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرجاتے۔‘

محمد وسیم نے کہا کہ چند دن کی ٹریننگ کے بعد وہ کامن ویلتھ گیمز میں گئے اور چاندی کا تمغہ جیتا حالانکہ ان کے انگوٹھے میں فریکچر ہوگیا تھا اس کے باوجود انھوںنے فائنل میں آسٹریلوی باکسر سے مقابلہ کیا جو پانچ ماہ کیوبا میں ٹریننگ کرکے ایڈنبرا آیا تھا۔

محمد وسیم کہتے ہیں کہ وہ زندگی بھر اس باؤٹ کو نہیں بھولیں گے جو ان کے خیال میں وہ جیت چکے تھے لیکن ان کے حریف کو فاتح قرار دے دیا گیا۔ اس مقابلے کی وڈیو اور تصاویر میں آسٹریلوی باکسر اور اس کے کوچ کے چہروں کے تاثرات یہ بتادینے کے لیے کافی ہیں کہ انہیں اپنی جیت کا بالکل یقین نہیں تھا۔

محمد وسیم نے کہا کہ اگر پاکستانی باکسرز کو کامن ویلتھ گیمز کے بعد باکسر عامر خان کے ساتھ ٹریننگ کا موقع فراہم کردیا جاتا تو یہ تجربہ ایشین گیمز میں ان کے بہت کام آسکتا تھا۔

اگر یہ ممکن نہ تھا تو ایشین گیمز سے قبل باکسرز کو قازقستان یا روس ٹریننگ کے لیے بھی بھیجا جاسکتا تھا لیکن یہ درخواست بھی رد ہوگئی اور ایشین گیمز کی ٹریننگ باکسرز نے صرف بیس روز پاکستان میں ہی کی ہے۔

محمد وسیم کو آج تک اس بات کا بھی افسوس ہے کہ چار سال قبل وہ دہلی میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا لیکن فوراً بعد چین میں منعقدہ ایشین گیمز میں عامر خان کے بھائی ہارون خان کی شرکت یقینی بنانے کے لیے انہیں اپنی کٹیگری تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوئی حالانکہ ایشین گیمز سے قبل انھوں نے بیجنگ میں ورلڈ کومبیٹ گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔

محمد وسیم نے کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ جیتا تو بین الصوبائی وزارت کے وزیر ریاض پیرزادہ نے ان کے لیے بیس لاکھ روپے کا اعلان کیا تھا لیکن محمد وسیم کہتے ہیں اعلان تو کردیا گیا انعام ابھی تک انہیں نہیں ملا ہے۔