پاکستان: سات بولروں کے بولنگ ایکشن مشکوک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صہیب مقصود پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز ہیں اور آف سپن بولنگ کرتے ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی صہیب مقصود سمیت سات بولروں کے بولنگ ایکشن قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں مشکوک قرار پائے ہیں۔

ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والے مجموعی طور پر 29 بولروں کے بولنگ ایکشن پر امپائروں نے باضابطہ طور پر اعتراض کرتے ہوئے ان کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو رپورٹ کی ہے۔

صہیب مقصود پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز ہیں اور آف سپن بولنگ کرتے ہیں۔

صہیب مقصود نے کراچی میں جاری ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں ملتان ٹائیگرز کی جانب سے کھیلتے ہوئے دو نصف سنچریاں سکور کی تھیں۔

فاٹا کے خلاف میچ میں انھوں نے چار اووروں میں 38 رنز کے عوض ایک وکٹ حاصل کی لیکن ان کا بولنگ ایکشن امپائرز کے خیال میں قواعد وضوابط کے منافی تھا لہٰذا اس کی رپورٹ کی گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صہیب مقصود نے گذشتہ سال جنوبی افریقہ کے خلاف سنچورین کے ون ڈے انٹرنیشنل میں دو اوور، اور اس سال بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکہ کے ون ڈے میں ایک اوور کیا تھا لیکن کسی امپائر نے بھی ان کے بولنگ ایکشن پر اعتراض نہیں کیا تھا۔

صہیب مقصود کے علاوہ جن دیگر چھ بولروں کے بولنگ ایکشن کے مشکوک ہونے کے بارے میں رپورٹ کی گئی ہے ان میں نیئرعباس، جنید ضیا، ندیم جاوید، جہانزیب فراز احمد اور عطا اللہ شامل ہیں۔

نیئر عباس کا بولنگ ایکشن اس ٹورنامنٹ میں دو مرتبہ رپورٹ ہو چکا ہے۔

ان سات کھلاڑیوں کے علاوہ انڈر 19، انٹرڈسٹرکٹ اور انٹرریجن ٹورنامنٹس میں بھی 29 بولروں کے مشکوک بولنگ ایکشن پر اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

حالیہ دنوں میں مشکوک بولنگ ایکشن کے بارے میں آئی سی سی سخت موقف کے ساتھ سامنے آئی ہے اور پاکستان کے سعید اجمل، سری لنکا کے سینا نائیکے، بنگلہ دیش کے سہاگ غازی اور الامین حسین، زمبابوے کے پراسپر اتسیا اور نیوزی لینڈ کے کین ولیم سن کے بولنگ ایکشن رپورٹ ہو چکے ہیں۔

ایک اور پاکستانی بولر عدنان رسول کو بھی اسی طرح کی صورتِ حال کا سامنا ہے جو اس وقت لاہور لائنز کی جانب سے بھارت میں چیمپیئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی کھیل رہے ہیں۔

اسی بارے میں