’بےاختیار کپتان نہیں لیکن ہر فیصلہ مرضی کا بھی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ بے اختیار کپتان نہیں ہیں لیکن ٹیم کے انتخاب میں ضروری نہیں کہ ان کی ہر بات مان لی جائے۔

مصباح الحق نے یہ بات سابق کپتان یونس خان کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی ہے جس میں انہوں نے ون ڈے ٹیم سے ڈراپ کیے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور سلیکشن کمیٹی کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

یونس خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مصباح الحق نے انہیں ٹیم میں شامل کرنے کی بات کی بھی ہوگی تو وہ اپنے اور اپنی ٹیم کے لیے کی ہوگی۔

مصباح الحق نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ اس حساس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ ایک طرف ان کی ٹیم کے ایک ساتھی کرکٹر ہیں اور دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ ٹیم کے انتخاب میں ان کی رائے یقیناً لی جاتی ہے لیکن وہ یہ بات پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ضروری نہیں کہ ہر وقت ان کی ہر بات مان لی جائے۔

’جب ٹیم منتخب کی جاتی ہے تو مشاورت ہوتی ہے جس میں کبھی آپ کی بات مانی جاتی ہے اور کبھی نہیں مانی جاتی اور آپ کو دوسروں کی رائے کا احترام کرنا پڑتا ہے اسے تسلیم کرنا پڑتا ہے۔‘

مصباح الحق سے جب کوچ وقاریونس کے حالیہ انٹرویو کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انہوں نے مصباح کے بیٹنگ انداز میں زیادہ مثبت تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے تو پاکستانی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ انہوں نے میدان میں جو بھی فیصلے کیے ہیں وہ صورتحال کے مطابق کیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ضروری نہیں کہ جو کرکٹر فیلڈ میں سب سے زیادہ دوڑتا نظرآتا ہے وہی جارحانہ انداز کا حامل ہو۔‘

مصباح الحق نے سوال کیا کہ اگر وہ دفاعی انداز کے کھلاڑی یا کپتان ہوتے تو ٹیم نے ان کی قیادت میں چار سال میں قابل ذکر کامیابیاں کیسے حاصل کیں؟

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے دفاعی اور جارحانہ انداز کے امتزاج سے کھیلتے ہوئے فیصلے کیے تبھی ٹیم نے کامیابیاں حاصل کیں۔

’اگر یہ سب کچھ نہ ہوتا تو پاکستانی ٹیم عالمی نمبرایک انگلینڈ کے خلاف کلین سوئیپ کیسے کرتی۔ ایشیا کپ کیسے جیت لیتی۔ بھارت کو بھارت میں کیسے ہراتی اس کے علاوہ ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچز کیسے جیتنےمیں کامیاب ہوتی؟‘

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف دونوں سیریز بڑی اہمیت کی حامل ہیں کہ ان میں بہترین کمبی نیشن تشکیل دیا جا سکے گا۔

اسی بارے میں