کیا یوگا ورزش ہی ہے؟

یوگا تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption یوگا کی پریکٹس صدیوں جاری ہے لیکن اب اس میں جدت پیدا ہونے سے یہ فن دوبارہ مقبول ہونے لگا ہے

ہو سکتا ہے کہ جِم جانے والے لاکھوں لوگوں کو یوگا ورزش کی طرح ہی لگے کیونکہ اس میں پٹھے کھنچتے ہیں اور یوگا کرنے والوں کو اپنے آپ کو ایک آسن میں رکھنے کے لیے کافی محنت کرنا پڑتی ہے۔

لیکن امریکہ میں یوگا برادری اس بات پر مصر ہے کہ ان کے آسنوں کا مقصد محض ورزش نہیں ہے۔

یکم اکتوبر سے واشنگٹن ڈی سی میں ورزش گاہوں، فٹنس سینٹروں اور جسمانی ورزش کے دیگر مراکز پر 5.75 فیصد سیلز ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ مقامی طور پر اسے ’یوگا ٹیکس‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اگرچہ سٹی کونسل کے قوانین میں یوگا کا ذکر بھی نہیں کیا گیا لیکن یوگا کے متوالے کہتے ہیں کہ یہ ٹیکس اس پر نہیں لگنا چاہیے۔

امریکی تنظیم یوگا الائنس کے صدر رچرڈ کارپل کے مطابق ورزش یوگا سے اسی طرح جڑی ہوئی ہے جس طرح ڈانس یا تائی چی سے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اکثر کسرت گاہوں میں سکھائے جانے والے یوگا کا بودھ اور ہندو روحانیت سے بہت کم لینا دینا ہے، لیکن یوگا سٹوڈیوز کا بنیادی مقصد دماغ، جسم اور روح کو یکجا کرنا ہے اور فٹ رہنا اس کا ایک خوش گوار ضمنی نتیجہ ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ صدیوں تک یوگا کو لگن سے عبادت اور روحانی روشن خیالی حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا رہا ہے۔

2012 میں نیویارک کے ریاستی حکام نے ایک حکم نامے میں کہا کہ یوگا ’حقیقی ورزش‘ نہیں ہے اور اس لیے اسے مقامی سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دیا جاتا ہے۔

لیکن یوگا کے حمایتی کہیں کہیں مختلف موقف بھی اختیار کر لیتے ہیں جیسا کہ ایران میں شرعی قوانین سے بچنے کے لیے اساتذہ ہمیشہ اسے ’یوگا کا کھیل‘ کہتے ہیں۔

ملیشیا میں روحانی یوگا پر پابندی ہے جہاں 2008 میں ایک فتوے کے تحت پانچ ریاستوں میں یوگا کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ دارالحکومت کوالالمپور میں یوگا کی کلاسوں میں جاپ کرنا اور محوِ عبادت رہنا بھی ممنوع ہے۔

2013 میں سان ڈی ایگو کی ایک اعلیٰ عدالت نے فیصلہ دیا کہ اگرچہ یوگا کی جڑیں مذہبی ہیں لیکن اس کی جدید شکل میں تربیت دینے سے کلیسا اور ریاست کو جدا جدا رکھنے کے نظریے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔

لیکن ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں مقامی ٹیکس حکام اس بات پر تلے ہوئے ہیں کہ یوگا ورزش ہی ہے۔

اسی بارے میں