پہلا میچ پھر کس بات کی جلدی تھی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بارہویں اوور میں نصف سنچری کی تکمیل پر پاکستانی ٹیم چھ بیٹسمینوں سے محروم ہوچکی تھی

پاکستانی بلے بازوں کی غیرذمہ داری کا خمیازہ ٹیم کو 6 وکٹوں کی شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

اگرچہ بولرز نے بازی پلٹنے کی ہر ممکن کوشش کرڈالی لیکن اگر اسکور بورڈ پر بھاری ہندسے سجے ہوں تو پھر جیت دھندلاتی نہیں ہے۔

ایک طویل ہوم سیریز کا یہ کسی طور بھی اچھا آغاز نہیں تھا جس میں پاکستانی ٹیم کو تین ون ڈے اور دو ٹیسٹ میچز کھیلنے ہیں۔

پاکستانی بیٹسمین اس طرح کھیلے جیسے یہ دورے کا پہلا نہیں بلکہ آخری میچ ہو اور انہیں وطن واپسی کی جلدی ہو۔

دبئی اسٹیڈیم میں شاہد آفریدی اپنے ہم منصب ایرون فنچ سے ٹاس میں بازی لے گئے لیکن ٹی ٹوئنٹی کے طور طریقوں سے سب سے زیادہ واقف پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ نے ایک بار پھر آنکھیں پھیرلیں۔

چار نئے کھلاڑیوں کے ساتھ یہ میچ کھیلنے والی آسٹریلوی ٹیم نے پاکستانی بیٹنگ کو 9 وکٹوں کے نقصان پر صرف 96 رنز پر محدود کردیا جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اس کا پانچواں سب سے کم اسکور ہے۔

دو سال قبل اسی دبئی اسٹیڈیم میں آسٹریلوی بولرز نے پاکستانی ٹیم کو اس کی تاریخ کے سب سے کم اسکور 74 رنز پر آؤٹ کردیا تھا۔

یہ پاکستانی بیٹسمینوں یہ پرانی عادت رہی ہے کہ وہ کسی بھی غیرمعروف بولر کو شہ سرخیوں میں جگہ دلوادیتے ہیں۔ اس بار انھوں نے گلین میکسویل کو ’ہّوا‘ بنادیا جو اپنی ہلکی پھلکی آف اسپن سے تین وکٹیں لے اڑے۔

گلین میکسویل نے اسی سال ڈھاکہ میں کھیلے گئے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے میچ میں پاکستانی بولرز کو اپنی 74رنز کی جارحانہ اننگز سے خوب نچایا تھا اس بار ان کا بولر کا روپ بھی پاکستانی ٹیم یاد رکھے گی۔

گلین میکسویل نے ایک ہی اوور میں اویس ضیا اور عمرامین کو پویلین کی راہ دکھائی۔

یہ دونوں بیٹسمین بلندبانگ دعووں کے بعد ٹیم میں واپس لائے گئے کہ ان کی بیٹنگ میں غیرمعمولی بہتری آچکی ہے لیکن نتیجہ ڈھاک کے تین پات۔

کسی نے سچ کہا ہے کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ اور بین الاقوامی دو الگ الگ دنیا ہیں۔

میکسویل نے تیسری وکٹ صہیب مقصود کی حاصل کی جو اس سے قبل انہی کی گیند پر اسٹمپڈ ہونے سے بچے تھے۔

پہلی بار کپتانی کرنے والے ایرون فنچ نے جس نئے بولر کو بھی گیند تھمائی اس نے انہیں اپنے پہلے ہی اوور میں وکٹ لے کر دی۔

لیگ اسپنر کیمرون بوائس نے احمد شہزاد کو سلپ میں فنچ کے ہاتھوں کیچ کرایا۔

کین رچرڈسن نے ڈیوڈ وارنر کی مدد سے عمراکمل کو پویلین بھیجا اور شین ایبٹ نے شاہد آفریدی کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔

بارہویں اوور میں نصف سنچری کی تکمیل پر پاکستانی ٹیم چھ بیٹسمینوں سے محروم ہوچکی تھی۔

لاہور لائنز کی طرف سے چیمپئنز لیگ میں عمدہ بیٹنگ کا انعام پاکستانی ٹیم میں شمولیت کی صورت میں پانے والے سعد نسیم پچیس رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے لیکن صورتحال نے انہیں بھی کھل کر کھیلنے سے باز رکھا اور وہ سنگلز پر قناعت کرتے رہے۔

آسٹریلوی ٹیم نے ہدف تک پہنچنے کی کوشش میں فنچ میکسویل اسمتھ اور ہیوز کی وکٹیں گنوائیں تو اسکور56 تھا لیکن ایک اینڈ سنبھالے ڈیوڈ وارنر نے چار چوکوں اور تین چھکے کی مدد سے54 رنز ناٹ آؤٹ کی اہم اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو چودہویں اوور میں جیت سے ہمکنار کردیا۔

اسی بارے میں