امریکی تیراک مائیکل فیلپس چھ ماہ کے لیے معطل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مائیکل فیلپس نے سنہ 2004 سے 2012 کے درمیان اولمپکس میں 18 طلائی تمغوں سمیت 22 تمغے جیتے ہیں

اولمپکس کی تاریخ کے کامیاب ترین تیراک مائیکل فیلپس کی نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے الزام میں گرفتاری کے بعد انھیں چھ ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔

امریکی تیراکی یونین کا کہنا ہے کہ اس دوران وہ تیراکی کے کسی بھی مقابلے میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

یونین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیلپس نے تنظیم کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔

29 سالہ فیلپس کو پولیس نے 30 ستمور کو ریاست میری لینڈ کے علاقے بالٹی مور میں ایسے علاقے میں 84 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے پر حراست میں لیا تھا جہاں مقررہ حدِ رفتار 45 میل فی گھنٹہ تھی۔

فیلپس نے اس واقعے پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے پہلے ہی کہا ہے کہ وہ کچھ عرصے کے لیے کھیل سے دور رہنا چاہتے ہیں۔

وہ سنہ 2015 میں روس میں ہونے والی تیراکی کی عالمی چیمپیئن شپ میں بھی حصہ نہیں لیں گے۔

اگرچہ ان پر عائد پابندی اپریل 2015 میں ختم ہوجائے گی لیکن امریکی تیراکی یونین کا کہنا ہے کہ انھیں اگست 2015 میں ہونے والے مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کے لیے منتخب نہیں کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ پابندی کے عرصے کے دوران انھیں دی جانے والی فنڈنگ بھی معطل رہے گی۔

مائیکل فیلپس سنہ 2004 سے 2012 کے درمیان اولمپکس میں 18 طلائی تمغوں سمیت 22 تمغے جیت کر تاریخ رقم کرچکے ہیں۔

2012 کے لندن اولمپکس کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا، لیکن اپریل میں انہوں نے اس کھیل میں پھر سے واپسی کی تھی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ فیلپس پر نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کا الزام لگا ہو۔ میری لینڈ میں ہی سنہ 2004 میں بھی ان پر اسی الزام کے تحت مقدمہ چلا تھا اور جرم ثابت ہونے پر ان پر 18 ماہ تک گاڑی چلانے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

اسی بارے میں