مشکوک بولنگ ایکشن، غازی اور اتسیا پر بھی پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سہاگ غازی اور پراسپر اتسیا اگست میں کھیلے گئے ون ڈے میچوں میں امپائرز کی نظروں میں آئے تھے

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے مشکوک بولنگ ایکشن کی پاداش میں مزید دو انٹرنیشنل آف سپنرز سہاگ غازی اور پراسپر اتسیا پر پابندی عائد کر دی ہے۔

آئی سی سی کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے غازی اور زمبابوے کے اتسیا پر پابندی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

کرکٹ کی عالمی تنظیم اسی معاملے میں گذشتہ ماہ پاکستانی آف سپنر سعید اجمل پر بھی پابندی عائد کر چکی ہے جن کے ایکشن کی درستگی کے لیے پاکستانی کرکٹ بورڈ نے سابق سپنر ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل کی ہیں۔

بیان کے مطابق آئی سی سی نے یہ قدم بائیو مکینک کے غیرجانبدار ماہرین کی رپورٹ کی روشنی میں اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ ان ماہرین کی رپورٹ کے مطابق ان دونوں کا بولنگ ایکشن قوانین کے منافی ہے۔

ان دونوں بولرز نے 19 ستمبر کو برطانیہ کی کارڈف میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں ماہرین کے سامنے تجزیے کے لیے بولنگ کی تھی۔

آئی سی سی کا یہ بھی کہنا ہے کہ بائیومکینک ماہرین کے مطابق سہاگ غازی اور پروسپر اتسیا کی تمام گیندیں 15 ڈگری کی قانونی حد سے تجاوز کرتی ہیں۔

سہاگ غازی کے ایکشن کے بارے میں رواں برس اگست میں سینٹ جارج میں ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں امپائروں نے رپورٹ کی تھی جبکہ اتسیا بھی اسی مہینے بلاوایو میں جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے میچ میں امپائرز کی نظروں میں آئے تھے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا کہنا ہے کہ یہ دونوں کھلاڑی اپنے بولنگ ایکشن میں درستگی کے بعد قانون کے مطابق دوبارہ جائزے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں آئی سی سی مشکوک بولنگ ایکشن کے معاملے میں انتہائی سخت موقف کے ساتھ سامنے آئی ہے اور سعید اجمل، سہاگ غازی اور پراسپر اتسیا کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے شلنگفرڈ اور نیوزی لینڈ کے ولیم سن کے بولنگ ایکشن بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں