اعتماد تو واپس نہ آسکا سیریز ہاتھ سے گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اکیس ماہ بعد بننے والی پہلی سنچری اوپننگ پارٹنر شپ بھی پاکستانی بیٹنگ کے مسائل حل نہ کرسکی۔

پاکستانی ٹیم نے صرف دو سو پندرہ رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد بولنگ سے بازی پلٹنے کی ہر ممکن کوشش کرڈالی لیکن گلین میکسویل کی 76 رنز کی اننگز نے آسٹریلیا کی 5 وکٹوں کی جیت کی راہ ہموار کردی۔

اس جیت کے ساتھ ہی آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف مسلسل چوتھی ون ڈے سیریز بھی اپنے نام کرلی اور اب اس کی نظریں تیسرا ون ڈے بھی جیت کر کلین سوئپ پر ہیں۔

دبئی کی سلو وکٹ پر دونوں ٹیموں نے تیز بولرز کو باہر کرکے لیفٹ آرم اسپنرز سے اپنی قوت میں اضافہ کیا۔

آسٹریلیا نے زیویئر ڈوھرٹی کو موقع دیا جبکہ رضا حسن پاکستان کی ون ڈے کیپ نمبر ایک سو ننانوے بنے۔

مصباح الحق نے ٹاس جیت کر ہدف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔

احمد شہزاد اور سرفراز احمد کی بیٹنگ ان کی مثبت سوچ کی عکاسی کررہی تھی ۔ دونوں کے دماغ اور فٹ ورک صحیح چل رہے تھے اور یہ دونوں چوالیس اننگز میں پاکستان کی پہلی سنچری اوپننگ پارٹنرشپ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

آخری بار محمد حفیظ اور ناصر جمشید نے جنوری دو ہزار تیرہ میں بھارت کے خلاف کولکتہ کے ون ڈے میں پہلی وکٹ کی شراکت میں ایک سو اکتالیس رنز کا اضافہ کیا تھا۔

احمد شہزاد نے ڈراپ کیچ اور ایل بی ڈبلیو ریویو کے نتیجے میں دو بار وکٹ بچائی لیکن تیسری مرتبہ ڈوہرٹی کی گیند پر مڈوکٹ پر اسمتھ کو آسان کیچ دے کر گنوادی۔

سرفرازاحمد بھی پہلی ون ڈے نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد جانسن کی گیند پر میکسویل کو پوائنٹ پر آسان کیچ دے بیٹھے۔

صرف سات گیندوں پر دونوں اوپنرز کے آؤٹ ہونے کے بعد تمام تر دباؤ کپتان مصباح الحق اور اسد شفیق کی طرف منتقل ہوگیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption آسٹریلین بلے باز جارج بیلی کریز پر موجود ہیں

پاکستانی ٹیم کی مشکلات مصباح الحق کے رن آؤٹ ہونے سے مزید بڑھ گئیں جس کے بعد وہ کسی بھی موقع پر سنبھل نہ سکی ۔

سنتیسویں اوور میں عمراکمل کا ٹیلنٹ بھی ایکسپوز ہوگیا جو صرف پانچ رنز بناکر جانسن کی گیند پر مڈ آف پر اسمتھ کو آسان کیچ تھماگئے ۔

اسد شفیق نے بھی مڈآف پر جانسن کو آسان کیچ دے کر نیتھن لائن کو وکٹ دی۔

شاہد آفریدی کریز پر برائے نام قیام میں بلے کو چند گیندوں پر ہوا میں لہرانے کے بعد سلپ میں اسمتھ کے ہاتھوں کیچ ہوئے ۔

فواد عالم نہ ٹیل اینڈرز کو آسٹریلوی غضب سے بچاسکے اور نہ ہی خود فیلڈرز کے درمیان یا ان کے سروں کے اوپر سے گیندیں گزارسکے۔

جانسن کی تین وکٹوں نے پاکستانی ٹیم کو سب سے زیادہ گھاؤ لگائے۔

پاکستان کی تمام دس وکٹیں درحقیقت اسکور میں صرف نواسی رنز کا اضافہ کرپائیں جبکہ آخری پانچ وکٹوں نے محض سولہ رنز کا اضافہ کیا۔

آسٹریلیا کے لیے بھی بیٹنگ آسان نہ تھی۔ ایرون فنچ محمد عرفان کی گیند پر وکٹ کیپر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

پہلے ون ڈے کے سنچری میکر اسٹیون اسمتھ کو بھی سرفراز احمد نے ذوالفقار بابر کے ہاتھوں کیچ کیا۔

ڈیوڈ وارنر کا اونچا شاٹ باؤنڈری پر کھڑے سات فٹ طویل قامت محمد عرفان نے کیچ کرکے رضاحسن کو پہلی ون ڈے وکٹ کی خوشی دی تو پچاس رنز کے اضافے پر آسٹریلوی ٹیم تین اہم وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی۔

عمراکمل نے گلین میکسویل کا دو کے انفرادی اسکور پر سلپ میں کیچ ڈراپ کرکے میچ وننگ اننگز کھیلنے کا موقع فراہم کردیا۔

جارج بیلی میکسویل کے ساتھ پچاسی رنز کی قیمتی شراکت قائم کرکے آؤٹ ہوئے اور جب میکسویل کی وکٹ گری تو آسٹریلوی ٹیم جیت سے اڑتیس رنز دور تھی جو جیمز فاکنر اور بریڈ ہیڈن کی موجودگی میں بن گئے۔

اسی بارے میں