اب تو مصباح بھی نہ تھے پھر بھی نہ جیت سکے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حیرت کی بات یہ ہے کہ ساڑھے تین سال سے بیٹنگ لائن کو حوصلہ دینے والے مصباح الحق کو جب خود حوصلے کی ضرورت پڑی تو ٹیم منیجمنٹ نے انہیں وہ دینے کے بجائے شاہد آفریدی کی قیادت میں ٹیم میدان میں اتاردی

ٹیم میں موجودگی اور کپتانی پر کئی لوگوں کو کھٹکنے والے مصباح الحق آسٹریلیا کے خلاف تیسرا ون ڈے نہ کھیلے لیکن پاکستانی ٹیم ان کی غیرموجودگی میں بھی ہارگئی۔

پاکستانی بیٹسمینوں سے فتح کے لیے درکار 232 رنز نہ بن سکے اور انھوں نے میچ کی آخری گیند پر گھٹنے ٹیک دیے۔

ایک رن کی ڈرامائی جیت کے ساتھ ہی آسٹریلیا نے نہ صرف تین میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کرلیا بلکہ عالمی ون ڈے رینکنگ میں پہلی پوزیشن بھی برقرار رکھی جو اس میچ میں شکست کی صورت میں اس کے پاس نہ رہتی۔

آسٹریلیا نے شارجہ میں ترانوے رنز اور دبئی میں پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کرکے سیریز کو پہلے ہی اپنی مٹھی میں کر لیا تھا۔

پاکستانی ٹیم مسلسل 88 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کے بعد پہلی بار مصباح الحق کے بغیر میدان میں اتری۔ان88 میں سے75 میں وہ کپتان رہے ہیں۔

مصباح کی غیرموجودگی کو ان کا اپنا فیصلہ بتایا گیا جس کا تعلق ان کی موجودہ مایوس کن بیٹنگ کارکردگی سے ہے حالانکہ یہ مایوسی صرف پانچ اننگز پر مشتمل ہے۔

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ساڑھے تین سال سے بیٹنگ لائن کو حوصلہ دینے والے مصباح الحق کو جب خود حوصلے کی ضرورت پڑی تو ٹیم منیجمنٹ نے انہیں وہ دینے کے بجائے شاہد آفریدی کی قیادت میں ٹیم میدان میں اتاردی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شاہد آفریدی آئے اور گئے

پاکستانی ٹیم میں مصباح الحق کے علاوہ غیرمستقل مزاج عمراکمل، رضاحسن اور ان فٹ وہاب ریاض کی جگہ صہیب مقصود، عمرامین، سہیل تنویر اور انور علی کی شمولیت عمل میں آئی۔

آسٹریلیا نے اپنے دو بہترین بولرز مچل جانسن اور نیتھن لائن کو آرام دیا۔

آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 9وکٹوں پر231 رنز بنائے۔

مشکل صورتحال میں ایک بار پھر اسٹیون اسمتھ کی77 رنز کی اننگز کام آئی۔

چھیالیسویں اوور میں سمتھ کی وکٹ گری تو آسٹریلیا کا سکور ایک سو ننانوے تک پہنچا تھا جس کے بعد فوکنر کے ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے بننے والے تنتیس رنز نے سکور کو دو سو اکتیس تک پہنچادیا۔

سہیل تنویر دس میچوں کے بعد تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے۔

پاکستان کی اننگز میں احمد شہزاد اور سرفراز احمد نے نصف سنچری شراکت قائم کی لیکن اس کے بعد ٹیم پھر مشکلات میں پھنس گئی اور چوبیس رنز کے اضافے پر تین وکٹیں گرگئیں جن میں فواد عالم کا آؤٹ ہونا موضوع بحث بن گیا۔

فواد عالم نے ڈوہرتی کی گیند پر سوئپ کرنا چاہا لیکن سلپ میں کھڑے سمتھ نے گیند ہوتے ہی اپنی پوزیشن تبدیل کی اور لیگ سلپ کی طرف دوڑتے ہوئے کیچ لے لیا۔ چونکہ انہوں نے اپنی پوزیشن گیند پڑنے کے بعد تبدیل کی تھی لہٰذا تھرڈ امپائر کی مشاورت سے فواد عالم آؤٹ قرار پائے۔

صہیب مقصود نے جب دفاعی خول سے باہر نکلنا چاہا اسی وقت وہ رچرڈسن کی گیند پر وارنر کے ہاتھوں دبوچے گئے۔

انہوں نے اسد شفیق کے ساتھ 74 رنز کی شراکت قائم کی۔

پھونک پھونک کر قدم بڑھانے والے اسد شفیق نے بھی دس اننگز کے بعد پہلی نصف سنچری مکمل کرتے ہی فوکنر کو وکٹ دے دی۔

شاہد آفریدی آئے اور گئے۔

تقریباً سال بھر کے بعد ون ڈے کھیلنے والے عمرامین کے ٹیلنٹ نے فیصلہ کن گھڑی میں دھوکہ دے دیا۔

انورعلی گلین میکسویل کے عمدہ کیچ کی نذر ہوگئے۔ میکسویل کی تھرو پر ذوالفقار بابر بھی رن آؤٹ ہوگئے تھے لیکن فاکنر کے دوسری کوشش میں بیلز گرانے کے بعد آسٹریلوی کھلاڑیوں نے رن آؤٹ کی اپیل ہی نہیں کی۔ یہی غلطی انہیں مہنگی پڑگئی۔

سہیل تنویر کا چھکا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بنا لیکن وہ بھی ٹیم کو بیچ منجدھار میں چھوڑ گئے۔

پاکستان کو آخری اوور میں جیت کے لیے صرف دو رنز بنانے تھے لیکن میکسویل نے اسے ایسا کرنے سے باز رکھا اور آخری گیندپر عرفان کو آؤٹ کرکے جیت پر مہرتصدیق ثبت کردی۔

اسی بارے میں