اس پرفارمنس کے ساتھ ورلڈ کپ میں کوئی چانس نہیں: آفریدی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’اگر ہم اس (متحدہ عرب امارات) کی پچ پر نہیں جیت سکتے تو پھر ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم ورلڈ کپ میں ایسی پرفارمنس کے ساتھ نہیں جا سکتے۔‘

ابوظہبی میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلے جاننے والے تیسرے ایک روزہ میچ میں پاکستانی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ اس پرفارمنس کے ساتھ ورلڈ کپ میں پاکستان کو کوئی چانس نہیں ہے۔

یاد رہے کہ ابوظہبی میں تیسرے اور آخری ایک روزہ میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو ایک دلچسپ مقابلے کے بعد ایک رن سے شکست دے کر ایک روزہ سیریز تین صفر سے جیت لی ہے۔

میچ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ اگلے سال فروری اور مارچ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان کا کوئی چانس نہیں ہو گا اگر پرفارمنس ایسی ہی رہی۔

’اگر ہم اس (متحدہ عرب امارات) کی پچ پر نہیں جیت سکتے تو پھر ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم ورلڈ کپ میں ایسی پرفارمنس کے ساتھ نہیں جا سکتے۔‘

شاہد آفریدی نے کہا کہ ایک بار پھر بلے بازوں نے بولرز کی محنت پر پانی پھیر دیا۔

’اس پچ پر ہمیں توقع تھی کہ آسٹریلیا 280 رنز تک سکور کرے گا لیکن بولرز نے ان کو 231 تک محدود کیا۔ ٹی ٹوئنٹی میچز سے تیسرے ایک روزہ میچ تک ہمارا مسئلہ یہ رہا ہے کہ ہم پارٹنر شپ نہیں بنا سکے۔ اور جب ہم پارٹنر شپ بنا لیتے ہیں تو ہماری وکٹیں گرنا شروع ہو جاتی ہیں۔‘

مصباح الحق کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر شاہد آفریدی نے کہا ’پاکستانی ٹیم کی کپتانی کرنا آسان کام نہیں ہے۔ تیسرا ایک روزہ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ مصباح الحق کا تھا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایک روزہ می میں ٹیم کی کپتانی کرتے رہیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں کپتان جو بھی ہو چاہے میں یا مصباح، ہمیں بتا دیا جائے۔اگر ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کا کپتان میں ہوں تو مجھ کو ابھی بتا دیا جائے۔‘

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مصباح الحق کا ہے کہ کیا وہ ورلڈ کپ میں کپتانی کے فرائض سرانجام دینا چاہتے ہیں یا نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی نے دیگر آپشنز پر نظروانی کرنی شروع کر دی ہے۔

اسی بارے میں