سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کا تجزیہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اجمل کے بغیر پاکستان کا بالنگ اٹیک کمزور ہو گیا ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئند چند دنوں میں آف اسپنر سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کا اپنے طور پر بائیومکینک تجزیہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی تسلی بخش رپورٹ کی روشنی میں آئی سی سی سے رجوع کیا جائے گا کہ وہ باضابطہ طور پر ان کے بولنگ ایکشن کا تجزیہ کرے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان گال میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے امپائرز نے سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کے قواعد وضوابط کے برخلاف ہونے کے بارے میں رپورٹ دی تھی جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سعید اجمل کو برسبین کی بائیومکینک لیبارٹری میں ان کے بولنگ ایکشن کے تجزیے کے لیے بھیجا تھا جس کی رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کردی تھی کہ سعید اجمل آئی سی سی کی مقرر کردہ پندرہ ڈگری کی حد سے زیادہ بولنگ کررہے ہیں جس پر آئی سی سی نے انہیں بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے سے روک دیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کی درستگی کے لیے ماضی کے مشہور آف اسپنر ثقلین مشتاق کی خدمات حاصل کررکھی ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ برسبین کی لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق سعید اجمل پنتیس سے چالیس ڈگری پر بولنگ کررہے تھے لیکن ثقلین مشتاق کی مدد سے وہ اپنی کہنی کے خم کو کم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اب بائیومکینک تجزیے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس ہائی اسپیڈ کیمرے نہیں ہیں تاہم جو کیمرے دستیاب ہیں ان کی مدد سے دیکھا گیا ہے کہ سعید اجمل کے بولنگ ایکشن میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

شہریارخان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں سعید اجمل کو آئی سی سی کی منظور شدہ تین لیبارٹریز برسبین۔ کارڈف یا چنئی میں سے کسی ایک میں تجزیے کے لیے بھیجا جائے اور اگر ان کی رپورٹ تسلی بخش آتی ہے تو پھر آئی سی سی سے رجوع کیا جائے گا کہ وہ ان کے بولنگ ایکشن کا جائزہ لے ۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ وہ سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کے مقررہ حد تک آنے کے سلسلے میں پرامید ہیں کہ وہ کلیئر ہوکر جلد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آسکیں گے۔

اسی بارے میں