دبئی ٹیسٹ ، یونس خان کی ریکارڈ ساز اننگز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونس خان نے ٹیسٹ کرکٹ میں انضمام الحق کا 25 سنچریاں بنانے کا ریکارڈ برابر کر دیا

یونس خان کی شاندار سنچری آسٹریلوی بولنگ کے ابتدائی وار کے بعد پاکستانی اننگز میں ٹھہراؤ لے آئی جس کے نتیجے میں پاکستان نے دبئی ٹیسٹ کے پہلے دن کا اختتام 219 رنز4 کھلاڑی آؤٹ پر کیا۔

یونس خان جو ون ڈے ٹیم سے نکالے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ پر خوب گرجے تھے آج آسٹریلوی بولنگ پر برسے اور 106 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

دبئی ٹیسٹ: پہلا دن یونس خان کے نام

یہ ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں25 ویں سنچری ہے اسطرحانھوں نے انضمام الحق کا ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ سنچریوں کا ریکارڈ بھی برابر کردیا۔

یونس خان اس سنچری کے ساتھ پاکستان کے پہلے اور دنیا کے بارہویں بیٹسمین بن گئے ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کھیلنے والے تمام ملکوں کے خلاف سنچری اسکور کی ہے۔

مصباح الحق 34 رنز پر کریز پر تھے جو چالیس سال ایک سو سنتالیس دن کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ کے سب سے عمررسیدہ کپتان بن گئے ہیں۔

سابقہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے کلائیو لائیڈ کا تھا جنہوں نے چالیس سال ایک سو چوبیس دن میں ٹیسٹ میچ میں کپتانی کی تھی۔

پاکستانی ٹیم کی یہ کارکردگی اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ دبئی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پچھلے پانچ ٹیسٹ میچوں میں جس ٹیم نے بھی پہلے دن بیٹنگ کی اس کی پہلی اننگز دوسرے دن میں داخل نہیں ہوسکی تھی۔ دونوں ٹیموں نے دو دو نئے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو آزماتے ہوئے ٹیسٹ کیپ دی۔

پاکستانی ٹیم میں لیگ اسپنر یاسر شاہ اور فاسٹ بولر عمران خان شامل کیے گئے جبکہ مچل مارش اوور اسٹیو اوکیف نے آسٹریلوی سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ کی ابتدا کی ۔

مصباح الحق نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن اوپنرز نے ابتدا ہی میں آسٹریلوی بولنگ کو اپنے اوپر حاوی ہونے کا موقع فراہم کردیا۔

محمد حفیظ میچ کی پانچویں ہی گیند پر بغی ابتدا ر کوئی رن بنائے مچل جانسن کی’ جارحیت ‛ کا شکار ہوگئے۔ گیند وکٹوں کے عین سامنے ان کے پیڈ پر لگی لیکنانھوں نے ریویو لے کر سب کو حیران کردیا کیونکہ سب کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ یہ ریویو ضائع ہی ہوگا۔

احمد شہزاد نے پیٹرسڈل کی گیند پر لیگ اسٹمپ ایکسپوز کرنے کی بھاری قیمت تین رنز پر بولڈ ہوکر چکائی۔

سات رنز پر دو وکٹیں حاصل کرکے آسٹریلوی تیز بولرز سر چڑھتا طوفان معلوم ہو رہے تھے کہ کپتان کلارک نے نئے اسپنر اسٹیو اوکیف کی رونمائی بھی کر دی اور بائیسویں اوور میں انھوں نے نیتھن لائن کو بھی متعارف کرا دیا لیکن اظہر علی اور یونس خان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کے سرجھکا کر کھیلنے سے ہی ٹیم سراٹھا کر چل سکے گی۔

ان دونوں کی ایک سو آٹھ رنز کی شراکت مچل جانسن نے ختم کی جب انھوں نے اظہر علی کو 53 کے انفرادی سکور پر شارٹ کور میں ایلکس ڈولن کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔

اظہرعلی کی وکٹ گرنے پر کپتان مصباح الحق کریز پر آئے جو اس وقت اپنے کریئر کے مشکل ترین وقت سے گزر رہے ہیں تاہم انھوں نے اپنے مخصوص پرسکون انداز میں بیٹنگ کی جس کی انہیں اور ٹیم دونوں کو ضرورت ہے۔

مصباح الحق اور یونس خان کے درمیان 83 رنز کی شراکت آسٹریلوی بولنگ کے صبر کا امتحان لیتی رہی۔

یہ شراکت مچل جانسن نے نئی گیند کے ساتھ ختم کی جب وہ یونس خان کو ایل بی ڈبلیو کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

مصباح الحق اور اسد شفیق شام کے بڑھتے سائے میں جانسن اور سڈل کے جارحانہ وار سہنے میں کامیاب ہوگئے لیکن اسد شفیق کے لیے نیتھن لائن کی اسپن کو کھیلنا آسان نہ تھا۔

مچل جانسن سیدھی وکٹ پر بھی مشکل بولر ثابت ہوئے۔وہ اب تک بیس اوورز میں صرف بتیس رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

اسی بارے میں