انضمام الحق کی برابری پر خوش ہوں، یونس خان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty images
Image caption اس سنچری نے انھیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ہر ملک کے خلاف سنچری کرنے والے پہلے پاکستانی بلے باز کے اعزاز سے بھی نواز دیا ہے

یونس خان نے اپنے اولین ٹیسٹ میچ میں سنچری بنائی تھی اور انھیں اپنے ٹیسٹ کریئر کی سلور جوبلی سنچری مکمل کرنے میں 14 سال لگے ہیں لیکن یہ 25 ویں سنچری ان کے لیے بہت معنی رکھتی ہے۔

اس 25 ویں سنچری نے انھیں پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ سنچریوں کے ریکارڈ میں انضمام الحق کے ساتھ مشترکہ مالک بنا دیا ہے۔

اس سنچری نے انھیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ہر ملک کے خلاف سنچری کرنے والے پہلے پاکستانی بلے باز کے اعزاز سے بھی نواز دیا ہے۔

یونس خان کو اس بات کی سب سے زیادہ خوشی ہے کہ ان کا نام انضمام الحق کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔

’اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ میرا نام عظیم انضمام کے ساتھ لیا جائے۔ میں ان کے ساتھ کھیلا ہوں اور ان کا ریکارڈ برابر کرنے پر فخر محسوس کررہا ہوں۔‘

کس موقع پر آپ کو یہ محسوس ہوا تھا کہ آپ یہ ریکارڈ برابر کرسکتے ہیں؟۔

یونس خان اس سوال پر سری لنکا کے خلاف گذشتہ سیریز کو یاد کرتے ہیں جس میں انھوں نے گال ٹیسٹ میں سنچری بنائی تھی۔

سری لنکا کے خلاف میں نے محمد یوسف کی 24 ویں سنچری برابری کی تھی تو میں سوچ رہا تھا کہ آسٹریلیا کے خلاف میں کوئی ٹیسٹ سنچری نہیں کر سکا لہذا کتنا اچھا ہو کہ میں نہ صرف سنچری سکور کروں جس سے 25 ویں سنچریوں کا ریکارڈ بھی برابر ہوجائے اور تمام ملکوں کے خلاف بھی سنچریاں ہوجائیں۔ مجھے خوشی ہے کہ سیریز کے پہلے ہی ٹیسٹ میں مجھے یہ موقع مل گیا۔‘

یونس خان کا کہنا ہے کہ سخت گرمی میں آسٹریلوی بولنگ کے سامنے یہ اننگز آسان نہ تھی۔

’آسٹریلوی بولنگ بہت موثر اور منظم تھی۔ کلارک نے ذہانت سے کپتانی کی اور بولنگ میں تبدیلیاں کرتے رہے اس صورت حال میں بیٹنگ چیلنج سے کم نہ تھی۔ مجھے مزا آیا کہ پیسنہ بھی نکلا لیکن محنت کام آئی۔‘

یونس خان نے اپنی سنچری چھکے سے مکمل کی جس پر ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اوپر دباؤ لینے کے لیے تیار نہ تھے۔

’میں جب 99 رنز پر تھا تو کلارک میرا امتحان لے رہے تھے انھوں نے اسمتھ کو گیند دی جنہوں نے آسان سی گیند کی جس پر میں شاٹ نہ کھیل سکا لیکن پھر میں نے سوچا کہ اس مرحلے پر بلے باز عموماً غلطی کر بیٹھتے ہیں لہذا میں نے یہ سوچ کر کہ یہی صحیح وقت ہے چھکا لگا دیا۔‘

یونس خان اپنے ساتھ سنچری شراکت قائم کرنے والے اظہر علی کی نصف سنچری کو بھی بڑی اہمیت دیتے ہیں۔

اظہرعلی پر دباؤ تھا کیونکہ آخری سیریز میں ان سے رنز نہیں ہوئے تھے لیکن انھوں نے بھی بہت ہی ذمہ داری سے بیٹنگ کی۔ کرکٹ میں پارٹنرشپ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور ان کی اظہر علی کے ساتھ سنچری شراکت نے ٹیم کو مشکل صورت حال سےباہر نکالا۔‘

اسی بارے میں