یاسر شاہ کا سفر، صوابی سے دبئی تک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاسر شاہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 279 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں

صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کرکٹر کو جب اپنے علاقے میں کھیلنے کی سہولت نہیں ملی تو اس نے پشاور کی راہ لی اور وہاں کرکٹ کھیلنی شروع کردی ۔ آج یہ نوجوان دبئی ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے بے تاب ہے۔

یاسر شاہ کو پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دبئی میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میں ٹیسٹ کیپ دی گئی ہے اور انھوں نے پہلی اننگز میں عمدہ بولنگ کرتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

’ٹیسٹ کیپ حاصل کرنا کسی بھی کرکٹر کی دیرینہ خواہش ہوتی ہے مجھے خوشی ہے میری محنت مجھے اس مقام پر لے آئی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اپنی بولنگ سے پاکستان کو یہ میچ جتواؤں۔‘

یاسرشاہ کے لیے اس سے بڑے اعزاز کی اور کیا بات ہوسکتی ہے کہ شہرۂ آفاق آسٹریلوی لیگ اسپنر شین وارن نے ان کی بولنگ دیکھنے کے فوراً بعد ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کی صلاحیتوں کی زبردست تعریف کی ہے۔

خود یاسر شاہ نے شین وارن ہی کی وڈیوز دیکھ کر لیگ اسپن بولنگ شروع کی تھی۔

’میرے بھائی انگلینڈ میں رہتے تھے انھوں نےمجھے شین وارن کے میچوں کی وڈیوز بھیجی تھیں جنہیں دیکھ کر میں نے لیگ اسپن شروع کی تھی۔‘

یاسر شاہ نے تین سال قبل زمبابوے کے دورے میں ایک ون ڈے اوردو ٹی ٹوئنٹی کھیلے تھے لیکن اس کے بعد وہ ٹیم میں جگہ برقرار نہ رکھ سکے تاہم وہ مایوس نہیں ہوئے۔

’میں نے سوچ رکھا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھاکر انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آؤں گا۔ مجھے اس لمحے کا ہمیشہ سے انتظار رہا تھا۔‘

یاسر شاہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 279 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

یاسر شاہ کا کہنا ہے کہ پہلی ٹیسٹ وکٹ انہیں ہمیشہ یاد رہے گی۔

’ٹیم کو بھی اس وقت وکٹ کی ضرورت تھی اور میں بھی اپنی پہلی کامیابی کے لیے کوشش کررہا تھا اسمتھ کو آؤٹ کرکے جو خوشی ہوئی اسے میں بیان نہیں کرسکتا جس کے بعد وارنر کی وکٹ بھی بڑی قیمتی تھی جنہیں میں نے آف اسٹمپ کے باہر بننے والے نشانات سے بولنگ کی اور آؤٹ کیا۔‘

یاسر شاہ خوش ہیں کہ اب ان کے علاقے میں بھی کرکٹ کی سہولتیں موجود ہیں۔

’جنید خان بھی صوابی سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے والے اسپنر فواد احمد کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔ صوابی میں اب اسٹیڈیم بھی بن گیا ہے اور تین اکیڈمیز بھی ہیں جس سے نوجوان کرکٹرز کو بہت فائدہ ہورہا ہے۔‘

28 سالہ یاسر شاہ 13 سال سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہے ہیں لیکن انہیں اس بات کا کوئی گلہ نہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی آمد تاخیر سے ہوئی ہے۔

اسی بارے میں