آسٹریلیا کی چار وکٹیں ڈھیر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اظہر علی اور احمد شہزاد نے چوتھے دن دوسری اننگز کا دوبارہ بیٹنگ کا آغاز کیا

دبئی میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگز میں آسٹریلیا کے چار کھلاڑی 49 کے مجموعی سکور پر آوٹ ہو گئے جبکہ آسٹریلیا کو 438 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف کا سامنا ہے۔

قبل ازیں احمد شہزاد اور یونس خان کی سنچریوں کی وجہ سے پاکستان نے 438 رنز کی مجموعی برتری حاصل کرنے کے بعد چائے کے وقفے کے تھوڑی دیر بعد اننگز ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لائیو سکور کارڈ

آسٹریلیا کی دوسری اننگز میں پاکستان کے سپنرز یاسر شاہر اور ذوالفقار بابر نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے میچ کا پلڑا بڑی حد تک پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے۔

پہلی اننگز میں سنچری سکور کرنے والے ہیڈن بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے۔ انچاس کے سکور تک پہنچتے پہنچے آسٹریلیا کے چار کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔ آسٹریلیا کی پہلی وکٹ 44 کے مجموعی سکور پر گری جب ہیڈن کو وکٹ کیپر سرفراز احمد نے سٹمپ آؤٹ کر دیا۔

اس کے بعد 44 کے سکور پر ہی دوسری وکٹ گری۔ یہ وکٹ بھی ذوالفقار بابر نے لی۔

ابھی ان جھٹکوں سے آسٹریلیوی ٹیم سنبھل نہیں پائی تھی کہ یاسر شاہ نے 49 کے مجموعی سکور پر کلارک کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ کلارک صرف تین رن بنا پائے۔ اس کے فوراً بعد 49 کے سکور پر ہی نیتھن لائن کو بھی یاسر شاہ نے ایل بی ڈبلیو کر دیا۔

پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 286 رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئر کی تھی۔

یونس خان کی ناقابل شکست سنچری مکمل ہوتے ہی اننگز ڈیکلیئر کر دی گئی۔ یونس خان نے اس میچ کی دونوں اننگز میں سنچری بنائی۔

سنیچر کو پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 38 رنز سے اپنی اننگز کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔

پاکستان کے دونوں اوپنگ بلے بازوں اظہر علی اور احمد شہزادنے ذمہ داری سے کھیل شروع کیا اور جب مجموعی سکور 71 رن پر پہنچا تو اظہر علی آسٹریلین سپنر اوکیف کی ایک آف سٹمپ پر پڑی گیند پر شاٹ کھیلتے ہوئے وکٹ کیپر ہیڈن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

اظہر علی نے 30 رنز بنائے۔اس کے بعد احمد شہزاد کے ساتھ یونس خان کھیلنے آئے اور دونوں بلے بازوں نے احتیاط سے کھیلنا شروع کیا اور کھانے کے وقفے تک آسٹریلیا کو کوئی اور کامیابی نہ ملی سکی۔

کھانے کے وقفے کے بعد احمد شہزاد اور یونس خان کے درمیان بہترین شراکت ہوئی۔ کھانے اور چائے کے وقفے میں بھی آسٹریلیا کو کوئی وکٹ نہیں ملی۔ دوسری وکٹ کی شراکت میں مجموعی طور پر 168 رنز بنے۔

یونس خان جو پہلی اننگز میں سنچری سکور کر چکے تھے دوسری اننگز میں احتیاط سے کھیلتے رہے۔ دوسری طرف احمد شہزاد نے اپنی سنچری مکمل کی۔ احمد شہزاد نے اپنی سنچری میں دس چوکے اور چار چھکے لگائے۔ شروع میں وہ بھی احتیاط سے کھیل رہے تھے لیکن سنچری مکمل ہونے پر انھوں نے تیز رفتاری سے کھیلنا شروع کیا۔ احمد شہزاد 131 رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔

احمد شہزاد کے آؤٹ ہونے پر سرفراز احمد کھیلنے آئے۔ انھوں نے صرف 15 رنز بنائے تھے جب اننگز ڈیکلیئر کر دی گئی۔

پاکستان کے 454 رنز کے جواب میں آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں 303 رنز سکور کیے۔

کھانے کے وقفے کے پہلے احمد شہزاد اور یونس خان کریز پر موجود ہیں اور اب سے کچھ دیر پہلے تک پاکستان کو آسٹریلیا پر267 رنز کی برتری حاصل ہو گئی تھی۔

اس سے پہلے پاکستانی بولرز کی عمدہ بولنگ کے باعث آسٹریلوی کھلاڑی جم کر کھیلنے میں ناکام رہے ہیں۔

جمعے کو کھیل کے آغاز پر آسٹریلیا کی جانب سے افتتاحی بلے بازوں ڈیوڈ وارنر اور کرس راجرز نے 113 رنز سے اننگز دوبارہ شروع کی اور سکور 128 تک پہنچا دیا۔

اس موقع پر فاسٹ بولر راحت علی نے راجرز کو بولڈ کر کے پاکستان کو پہلی کامیابی دلوا دی جنھوں نے 38 رنز بنائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاسر شاہ نے 66 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں

راجرز کی جگہ آنے والے ایلکس ڈولن زیادہ پراعتماد نہ دکھائی دیے اور 37 گیندوں پر صرف پانچ رنز بنانے کے بعد راحت علی کی تھرو پر رن آؤٹ ہوگئے۔

کپتان مائیکل کلارک صرف دو رنز بنا سکے اور ذوالفقار بابر کی گیند پر اظہر علی کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

سمتھ اور وارنر کے درمیان چوتھی وکٹ کے لیے 48 رنز کی شراکت ہوئی جس کا خاتمہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے سپنر یاسر شاہ نے کیا۔

سمتھ نے 22 رنز بنائے اور وہ ٹیسٹ کرکٹ میں یاسر کی پہلی وکٹ بنے۔

آسٹریلیا کی پانچویں وکٹ کھانے کے وقفے کے فوراً بعد گری جب یاسر شاہ نے ہی سنچری بنانے والے ڈیوڈ وارنر کو بولڈ کر دیا۔

133 رنز بنانے والے وارنر نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی نویں سنچری آٹھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے مکمل کی۔

ہیڈن نے جو محتاط انداز سے کھیل رہے تھے ان کو پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے عمران خان نے 22 رنز پر بولڈ کیا۔

مارش نے محتاط کھیل پیش کیا اور 27 رنز پر ذوالفقار بابر کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈیوڈ وارنر نے جارحانہ بلے بازی کا انداز برقرار رکھا اور سنچری مکمل کی

پاکستان کی جانب سے یاسر نے تین، ذوالفقار بابر اور راحت علی نے دو دو جبکہ محمد حفیظ اور عمران خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

اس سے قبل میچ کے دوسرے دن پاکستانی ٹیم وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد کی عمدہ سنچری کی بدولت 454 رنز کے اچھے مجموعے تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔

سرفراز احمد نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 80 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی۔

پاکستان کی جانب سے لیگ سپنر یاسر شاہ اور فاسٹ بولر عمران خان اپنا پہلا ٹیسٹ کھیل رہے ہیں جبکہ آسٹریلیا کی جانب سے لیفٹ آرم سپنر سٹیو اوکیف اور بیٹسمین مچل مارش کا یہ پہلا ٹیسٹ ہے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے آخری 14 میں سے 13 ٹیسٹ میچ آسٹریلیا نے جیتے ہیں۔

آسٹریلوی ٹیم دبئی میں پہلی بار ٹیسٹ میچ کھیل رہی ہے۔ اس سے قبل آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف سنہ 2002 میں شارجہ میں دو ٹیسٹ میچ کھیلے تھے جو اس نے جیتے تھے۔

اسی بارے میں