جذباتی لیکن کھرا انسان ، جنٹلمین کرکٹر

تصویر کے کاپی رائٹ getty images
Image caption یونس خان نے دونوں اننگز میں سنچری بنائی

ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ چھبیس سنچریوں کا ریکارڈ قائم کرنے والے یونس خان نے ایک موقع پر یہ سیریز نہ کھیلنے کا سوچا تھا لیکن پھر ارادہ ترک کردیا۔

’’ ون ڈے ٹیم سے باہر ہونے کے بعد میں نے سوچاتھا کہ ٹیم ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز ہارچکی ہے لہذا میں دنیا کی ایک بڑی ٹیم کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنے نہ آؤں لیکن پھر مجھے یہ خیال آیا کہ میں کبھی مشکلات سے نہیں بھاگا اور ہر چیلنج قبول کیا ہے لہذا میں یہاں آگیا۔خود کو موسم سے ہم آہنگ کیا اور آج میں پاکستان کا سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والا بیٹسمین ہوں‛‛۔

یونس خان کا کریئر ہمیشہ ہنگامہ خیز رہا ہے ۔کبھی وہ شہریارخان سے ناراضی پر کپتانی چھوڑتے ہوئے نظرآتے ہیں تو کبھی ایک سیاست دان کی طرف سے میچ فکسنگ کا الزام لگنے پر اسقدر دلبرداشتہ ہوتے ہیں کہ سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد کپتانی کا استعفی اعجاز بٹ کے ہاتھ میں تھمادیتے ہیں۔کبھی کرکٹ بورڈ کی انٹیگریٹی کمیٹی انہیں غیرمعینہ مدت کے لیے کرکٹ کھیلنے سے روک دیتی ہے تو کبھی ون ڈے ٹیم سے باہر ہونے پر وہ کرکٹ بورڈ پر گرجتے برستے ہیں۔

ان تمام باتوں کے باوجود اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کرے گا کہ یونس خان ایک ایسے کرکٹر ہیں جنہیں حریف کھلاڑی بھی قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں اور نوجوان کرکٹرز ان میں اپنے لیے سیکھنے کے گر تلاش کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونس خان پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے کھلاڑی بن گئے ہیں

آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک کے مطابق یونس خان اس کھیل کے چند قابل احترام کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔

’یونس خان بجا طور پر جنٹلمین ہیں۔ مجھے یہ جان کر بہت حیرت ہوئی ہے کہ انھوں نے صرف ترانوے ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں میں سمجھ رہا تھا کہ وہ اس سے زیادہ ٹیسٹ میچز کھیلے ہونگے۔ یونس کو سپنرز کے خلاف سوئپ شاٹس کھیلنے میں کمال حاصل ہے ۔‘

یونس خان آسٹریلوی کپتان کے ان ستائشی کلمات کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ دوطرفہ تعلقات کا نتیجہ ہے۔

’میں نے اپنی تمام تر کرکٹ مثبت سوچ کے ساتھ کھیلی ہے اسی لیے حریف کرکٹرز بھی میرے لیے اچھے خیالات رکھتے ہیں۔ میں فیلڈ میں حریف ٹیم کی ہر اچھی کارکردگی کی تعریف کرتا ہوں۔ ان کی عزت کرتا ہوں ۔‘

دبئی ٹیسٹ میں یونس خان کے ساتھ سنچری کرنے والے احمد شہزاد کےخیال میں یونس خان نوجوان کرکٹرز کی حوصلہ افزائی میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔

’’ میں نے ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز کیا تو یونس خان ہی میرے کپتان تھے اور آج جب میں نے آسٹریلیا کے خلاف سنچری اسکور کی تو اس میں بھی ان کی رہنمائی شامل تھی۔ گزشتہ روز جب ہم واپس ہوٹل جارہے تھے تو انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے آسٹریلیا کے خلاف سنچری کرنےمیں بارہ سال لگ گئے لیکن تم ایسا نہ کرنا‛‛ ۔

یونس خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی ریکارڈز کو فوقیت نہیں دی۔

’’ میں نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ میں جاوید میانداد۔ انضمام الحق اور محمد یوسف سے آگے نکل جاؤں گا۔ سنچریاں بنتی گئیں اور جب میں نے بیسویں سنچری اسکور کی تو پھر مجھے خیال آ گیا کہ اگر میں فٹ رہا تو میں مزید سنچریاں بناسکتا ہوں۔ اگر آپ میرے کریئر کو دیکھیں تو میں ستر اور اسّی کے اسکور میں کئی مرتبہ آؤٹ ہوا ہوں ‛‛۔

یونس خان اپنے کریئر میں آنجہانی کوچ باب وولمر کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔

’باب وولمر کے کوچ بننے کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے خود پر یقین ہوا کہ میں بھی زیادہ سنچریاں کرسکتا ہوں۔دو ہزار چار سے قبل میں ٹیم میں ان اور آؤٹ ہوتا رہا تھا۔ باب وولمر کے کہنے پر ہی میں نے آسٹریلیا کے دورے میں ون ڈاؤن کی پوزیشن پر بیٹنگ کی ہامی بھری تھی حالانکہ اس آسٹریلوی ٹیم میں میک گرا۔ گلیسپی بریٹ لی اور شین وارن جیسے ورلڈ کلاس بولرزموجود تھے۔‘