’یہ میچ میری دوسری بڑی کامیابی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مصباح الحق نے کہا ہے کہ پوری ٹیم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے دو سال قبل اس وقت کی عالمی نمبر ایک انگلینڈ کی ٹیم کےخلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ کیا تھا۔گزشتہ سال اُس وقت کی عالمی نمبر ایک ٹیم جنوبی افریقہ بھی پاکستان کے سامنے مشکلات کا شکار ہوئی تھی اور اب دوبارہ عالمی نمبر ایک بننے کی خواہش رکھنے والی آسٹریلوی ٹیم نے خود کو مشکل میں پایا ہے ۔

تین مختلف ٹیموں کے خلاف اگر کوئی قدر مشترک ہے تو وہ پاکستانی ٹیم کے کپتان مصباح الحق ہیں جو انگلینڈ کے خلاف سیریز کے بعد آسٹریلیا کے خلاف دبئی ٹیسٹ کی جیت کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔

’انگلینڈ کے خلاف کلین سوئپ کے بعد یہ ٹیسٹ میچ میرے کیریئر کی دوسری سب سے بڑی کامیابی ہے۔‘

دبئی ٹیسٹ سے قبل پاکستانی ٹیم کو سری لنکا کے دورے میں ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں سیریز میں شکست ہوئی تھی اور پھر آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کی شکست نے بھی مصباح الحق کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا لیکن اب وہ خود کو بہت پرسکون محسوس کر رہے ہیں۔

’سری لنکا میں بھی ہم نے اچھی کرکٹ کھیلی تھی لیکن اس کو اس نکتے پر نہیں لا پا رہے تھے جو جیت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ دبئی ٹیسٹ میچ میں ہم نے بیٹنگ اور بولنگ میں زبردست پرفارمنس دی ہے اور ہر کرکٹر نے اپنا کردار بھرپور طریقے سے نبھایا۔‘

مصباح الحق اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے یاسر شاہ کی عمدہ بولنگ کے معترف ہیں جنہوں نے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں سات وکٹیں حاصل کیں۔

’آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیم کے خلاف یہ کارکردگی بہت ہی زبردست ہے ۔ یاسر شاہ کافی عرصے سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے ہیں جس کا فائدہ انہیں اس ٹیسٹ میچ میں ہوا ۔ ان میں بڑی کرکٹ کھیلنے کا ٹمپرامنٹ موجود ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصباح الحق اس میچ میں اپنی فارم میں واپس آ گئے

لیفٹ آرم اسپنر ذوالفقار بابر کی بولنگ کے بارے میں مصباح الحق کا کہنا ہے کہ عمر کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں جب تک آپ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس میچ میں ذوالفقار بابر نے بھی انتہائی عمدہ بولنگ کی اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

مصباح الحق اس میچ کی دونوں اننگز میں سنچریاں سکور کرنے والے یونس خان کو نوجوان کرکٹرز کے لیے رول ماڈل سمجھتے ہیں۔

’یونس خان لیجنڈ ہیں۔ وہ اپنے ڈسپلن اور انداز کے لحاظ سے منظم کرکٹر ہیں اور وہ ہر وقت نوجوان کرکٹرز کی جس طرح رہنمائی کرتے ہیں وہ بہت اہمیت کی بات ہے۔ نوجوان کرکٹرز ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‘

مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ کیچز ڈراپ ہونے سے انہیں فرسٹریشن ہورہی تھی۔

’ہم نہیں چاہتے تھے کہ میچ اس مقام پر آجائے کہ جہاں پریشر ہم پر آجاتا۔ جیسے جیسے اوورز کم ہوتے جاتے ہیں فیلڈنگ سائیڈ کی پریشانی بڑھتی جاتی ہے جس سے توجہ ہٹ جاتی ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ بولرز نے اپنی توجہ برقرار رکھی اور اس موقع پر اسد شفیق نے جو کیچ لیا وہ ہمارے لیے بہت اہم تھا۔‘

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ ابوظہبی میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں بھی اپنی پوری توجہ کے ساتھ کھیلیں گے کیونکہ آپ آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیم کے سامنے تساہل پسندی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دوسرا ٹیسٹ تیس اکتوبر سے شروع ہوگا۔