سری لنکا کے دورے سے قبل بھارتی ٹیم مشکلات کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ویسٹ انڈیز کے خلاف حالیہ ادھوری سیریز میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے شامی سری لنکا دورے سے باہر ہو گئے ہیں

بھارت اور سری لنکا کے درمیان پانچ ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ دو نومبر کو کٹک میں کھیلا جائے گا۔

لیکن اس سے پہلے پیر کو خبر آئی کہ بھارت کے بولر محمد شامی پاؤں کے انگوٹھے میں چوٹ کی وجہ سے سیریز سے باہر ہو گئے ہیں۔

محمد شامی کے سیریز سے باہر ہونے سے بھارتی ٹیم کے بولنگ اٹیک کو نقصان پہنچے گا کیونکہ انھوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ادھوری سیریز میں بھارت کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں لی تھیں۔

ان کی جگہ مہاراشٹر کے بولر دھول کلکرنی کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم کو اس سیریز کی تیاری کے لیے وقت نہیں ملا ہے۔

مہمان ٹیم کے سٹار بلے باز وکٹ کیپر کمار سنگاکارا بھی پیٹھ پر لگنے والی چوٹ سے پریشان ہیں۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے سیریز کے دوران ہی بھارت سے لوٹ جانے کے بعد بی سی سی آئی نے فوری طور پر سری لنکا کو ون ڈے سیریز کے لیے مدعو کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption میتھیوز کا خیال ہے کہ سری لنکا کو تیاری کے لیے مناسب وقت نہیں مل سکا

اس سیریز کے لیے بھارت کی کپتانی وراٹ کوہلی کو سونپی گئی ہے جبکہ مہندر سنگھ دھونی کو آرام دیا گیا ہے۔

وکٹ کیپر ردھیمان ساہا کی فٹنس کے حوالے سے بھی شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

بھارت کے سابق وکٹ کیپر بلے باز وجے دہیا یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ٹیم میں ردھیمان ساہا سے زیادہ نمن اوجھا کی جگہ بنتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت اے کی جانب سے کھیلتے ہوئے انھوں نے تین سنچریاں بنائی تھیں۔ اس کے بعد وہ انگلینڈ کے دورے پر گئے لیکن وہاں انھیں کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔

وجے دہیا کا خیال ہے کہ آسٹریلیا کے دورے سے پہلے سری لنکا کے خلاف کھیلنے سے بھارتی ٹیم کو فائدہ ہو گا۔

دہیا بتاتے ہیں: ’اگرچہ کوئی کچھ کہے، لیکن آئندہ ورلڈ کپ میں اگر کوئی ٹیم ڈارک ہورس ثابت ہوگی تو وہ سری لنکا ہی ہے۔‘

اسی بارے میں