مردوں کے لیے انعامی رقم خواتین سے کہیں زیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹینس وہ پہلا کھیل تھا جس میں مردوں اور خواتین کے مقابلوں میں یکساں انعامی رقم دی گئی

بی بی سی سپورٹس کے ایک جائزے کے مطابق دنیا میں 30 فیصد کھیل ایسے ہیں جن کے عالمی مقابلوں میں مردوں کو خواتین کے مقابلے میں زیادہ انعامی رقم دی جاتی ہے۔

برطانوی وزیرِ کھیل ہیلن گرانٹ کا کہنا ہے کہ کھیلوں کی دنیا میں صنفی امتیاز کے خاتمے اور شفافیت کی ضرورت ہے۔

جائزے میں انعامی رقم میں سب سے زیادہ فرق فٹبال، کرکٹ، گولف، ڈارٹس، سنوکر اور سکواش کے کھیلوں میں پایا گیا۔

اس جائزے کے دوران دنیا میں کھیلے جانے والے 56 کھیلوں کا جائزہ لیا گیا جن میں سے 35 ایسے کھیل تھے جن کے عالمی مقابلوں کے فاتحین کو انعامی رقم دی جاتی ہے۔

اس کے برعکس رگبی اور ہاکی سمیت 21 کھیلوں میں کسی قسم کی کوئی رقم انعام میں نہیں دی جاتی۔

جن 35 کھیلوں میں انعامی رقم دی جاتی ہے ان میں سے 25 میں تو مردوں اور خواتین کی انعامی رقم برابر ہے لیکن دس میں ایسا نہیں ہے۔

ایتھلیٹکس، باؤلز، سکیٹنگ، میراتھن، نشانہ بازی، ٹینس اور والی بال وہ کھیل ہیں جن میں 2004 سے پہلے سے مردوں اور خواتین کی انعامی رقم برابر ہے جبکہ گذشتہ دہائی میں اس فہرست میں مزید نو کھیلوں کا اضافہ ہوا۔

ڈائیونگ، کشتی رانی، تائیکوانڈو، ونڈ سرفنگ اور سائیکلنگ وہ کھیل ہیں جو گذشتہ دو برس میں مرد و خواتین کے لیے یکساں انعامی رقم دینے والے کھیلوں کی فہرست میں شامل ہوئے۔

فٹبال وہ کھیل ہے جہاں مردوں اور خواتین کے عالمی اور پیشہ ور مقابلوں میں انعامی رقم کا فرق بہت زیادہ ہے۔

جرمنی کے مردوں کی فٹبال ٹیم نے رواں برس برازیل میں فٹبال کا عالمی کپ جیتنے پر دو کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈ کی انعامی رقم حاصل کی جبکہ 2011 میں ہونے والی خواتین کے فٹبال ورلڈ کپ کی فاتح جاپانی خواتین کی ٹیم کو صرف چھ لاکھ 30 ہزار پاؤنڈ کے مساوی رقم ملی تھی۔

اسی طرح برطانیہ میں فٹبال کے مقابلے ایف اے کپ میں مردوں کے مقابلوں میں فاتح کو دی جانے والی رقم 18 لاکھ پاؤنڈ ہے جبکہ خواتین کے مقابلوں میں فاتح ٹیم کے لیے انعامی رقم صرف پانچ ہزار پاؤنڈ ہے۔

فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مرد اور خواتین فٹبالروں کے لیے انعامی رقم میں فرق کی وجہ ان مقابلوں کی عالمی رسائی میں موجود فرق ہے۔

برطانوی فٹبال ایسوسی ایشن میں خواتین کی فٹبال کی ڈائریکٹر کیلی سمنز کا کہنا ہے کہ ’مردوں کا فٹبال خواتین کے مقابلے میں مالی طور پر کہیں زیادہ منفعت بخش اور کروڑوں ڈالر کی صنعت ہے۔ اس کے برعکس خواتین کے فٹبال میں تین سے چار برس قبل تک کوئی پیشہ ور کھلاڑی ہی نہیں تھی۔ ان دونوں کے درمیان خلیج بہت بڑی ہے۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ ’خواتین کے ایف اے کپ کے لیے ایک ایسے تجارتی شراکت دار کی تلاش جاری ہے جس کی مدد سے ان مقابلوں کو زیادہ افراد تک پہنچایا جا سکے۔‘

یہ فرق صرف فٹبال میں ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے مقبول ترین کھیلوں میں سے ایک کرکٹ میں بھی ہے۔

کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں جہاں مردوں میں فاتح ٹیم 25 لاکھ پاؤنڈ کے مساوی انعامی رقم پاتی ہے وہیں خواتین کی فاتح ٹیم کو 47 ہزار پاؤنڈ ملتے ہیں۔ ورلڈ ٹی 20 مقابلوں میں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں اور مرد جہاں چھ لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ کے مساوی انعام پاتے ہیں تو خواتین کے حصے میں 44 ہزار پاؤنڈ ہی آتے ہیں۔

عالمی کرکٹ کونسل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم خواتین کی کرکٹ کی ترقی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ گذشتہ پانچ برس میں خواتین کی کرکٹ پر خرچ کی جانے والی رقم میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے اور اب یہ رقم 20 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر دو کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

آئی سی سی کے مطابق ’خواتین کی کرکٹ صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور کون جانتا ہے کہ آنے والے 20 برس میں یہ کہاں پہنچ جائے گی۔‘

ٹینس وہ پہلا کھیل تھا جس میں مردوں اور خواتین کے مقابلوں میں یکساں انعامی رقم دی گئی اور اس بات پر عمل 1973 میں یو ایس اوپن کے دوران ہوا اور سب سے آخر میں 2007 میں ومبلڈن میں انعامی رقم برابر کی گئی۔ اب دنیائے ٹینس کے چاروں گرینڈ سلیم مقابلوں میں مرد اور خاتون فاتح کو برابر انعام دیا جاتا ہے۔

ویمن ٹینس ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکیٹو سٹیسی الیسٹر کا کہنا ہے کہ ’خواتین کی ٹینس آج جہاں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس بلی جین کنگ جیسے مضبوط رہنما تھے جنھوں نے 1973 میں برابری کے لیے آواز اٹھائی اور یہ حق حاصل کیا۔‘

اسی بارے میں