مستقل مزاجی رینکنگ سے زیادہ اہم ہے: وقار یونس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’آسٹریلوی ٹیم کو شکست سے بہت تکلیف پہنچی ہے لہٰذا اس کے سخت جواب کے لیے تیار رہنا چاہیے‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس کے نزدیک عالمی رینکنگ کی تیسری پوزیشن یقیناً اہم ہے لیکن اس سے زیادہ اہمیت ٹیم کی کارکردگی میں مستقل مزاجی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی ٹیم اگر ابوظہبی ٹیسٹ میں بھی آسٹریلیا کو ہرانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر آ جائے گی۔

جیت برقرار رکھنے کا چیلنج

وقاریونس نے ابوظہبی کے شیخ زید سٹیڈیم میں ٹیم کی پریکٹس کے موقعے پر کہا کہ یقیناً یہ بڑی بات ہوگی کہ پاکستانی ٹیم عالمی رینکنگ کی ابتدائی تین ٹیموں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے۔

لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ’ٹیم کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ مستقل مزاجی موجود رہے کیونکہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ اکثر یہ رہا ہے کہ ایک دو میچوں میں اچھی کارکردگی کے بعد اس کی کارکردگی اچھی نہیں رہتی۔‘

وقاریونس کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ٹیم کی غیرمعمولی کارکردگی کے نتیجے میں لوگوں میں اعتماد آئے اور وہ کہہ سکیں کہ پاکستانی ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

وقار یونس نے کہا کہ دبئی ٹیسٹ میں ٹیم نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس میں ٹیلنٹ موجود ہے اور اگر اپنی پوری صلاحیت کے مطابق کھیلے تو نتیجہ بھی ہمارے حق میں آئے گا۔

وقار یونس نے کہا کہ دبئی ٹیسٹ جیت لینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پاکستانی ٹیم کا کام مکمل ہوگیا ہے۔ ابھی سیریز ختم نہیں ہوئی اور ابوظہبی میں اسی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے جو کھلاڑیوں نے دبئی ٹیسٹ میں دکھائی تھی۔

انھوں نے کہا کہ آسٹریلوی ٹیم کو شکست سے بہت تکلیف پہنچی ہے لہٰذا اس کے سخت جواب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

وقار یونس نے کہا کہ انھوں نے چار روزہ میچ میں آسٹریلوی بیٹسمینوں کی سپنروں کے خلاف کمزوریاں دیکھ لی تھیں اور انھیں توقع تھی کہ پہلے ٹیسٹ میں سپنر انھیں پریشان کریں گے۔

وقاریونس نے ذوالفقار بابر کے بارے میں کہا کہ وہ اعلیٰ معیار کے بولر ہیں جو کافی عرصے سے ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ بولنگ کرتے آئے ہیں لیکن چونکہ پاکستانی ٹیم میں عبدالرحمٰن اچھی بولنگ کر رہے تھے لہٰذا بابر کو موقع نہ مل سکا اور اب جب انھیں موقع ملا ہے انھوں نے بہت ہی عمدہ بولنگ کی ہے۔

وقار یونس نے کہا کہ پاکستانی بیٹسمین ایک بار پھر مچل جانسن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ انھوں نے دبئی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں تین وکٹیں حاصل کیں لیکن اس کے لیے انھیں سخت محنت کرنی پڑی تھی اور اس بار بھی ان کے خلاف حکمت عملی تیار کر کے کھیلیں گے۔

اسی بارے میں