یونس کی ڈبل سنچری اور آسٹریلیا کو اننگز کے آغاز پر ہی نقصان

تصویر کے کاپی رائٹ getty images
Image caption مصباح الحق کا فارم میں واپس آنا پاکستان کے لیے خوش آئند ہے۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جا رہے ابوظہبی ٹیسٹ کے دوسرے دن یونس خان کی ڈبل سنچری اور مصباح الحق کی سنچری کی بدولت پاکستان کا سکور چائے کے وقفے کے تھوڑی دیر بعد تک چھ وکٹوں کے نقصان پر سکور جب 570 تک پہنچ گیا تو اننگز ڈیکلیئر کر دی۔

میچ کا تفصیلی سکور بورڈ

اس وقت آسٹریلیا کی پہلی اننگز جاری ہے جس میں اسے ابتدا میں ہی کرس راجرز کی صورت میں اٹھانا پڑا جو پانچ رنز بنا کر عمران خان کی گیند پر وکٹر کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

دوسرے دن کھیل کے اختتام پر ڈیوڈ وارنر کے ساتھ نیتھن لیون کھیل رہے تھے اور ٹیم کا سکور ایک وکٹ کے نقصان 22 رنز بنا لیے ہیں۔

اس سے پہلے میچ کے دوسرے دن چائے کے وقفے تک پاکستان کی ٹیم نے 517 رنز بنائے تھے اور اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔

چائے کے وقفے کے بعد یونس خان 213 کے انفرادی سکور پر پیٹر سڈل کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ اس کے بعد اسد شفیق کی وکٹ بھی گر گئی اور وہ 21 رنز بنا کر سٹارک کی گیند پر بولڈ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈیوڈ وارنر کے کرس راجرز بیٹنگ کرنے آئے لیکن کرس راجر پانچ رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے

چائے کے وقفے سے تھوڑی دیر قبل کپتان مصباح الحق اپنی سنچری سکور کرنے کے فوراً بعد سٹیون سمتھ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ سمتھ نے اپنی ہی گیند پر مصباح کا کیچ لے کر انھیں آؤٹ کر دیا۔

مصباح الحق اور یونس خان کے درمیان 181 رنز کی شراکت ہوئی۔

ابو ظہبی کے شیخ زید سٹیڈیم میں مصباح الحق سنچری سکور کرنے والے تیسرے پاکستانی بلے باز بن گئے ہیں۔

یونس خان چائے کے وقفے تک 205 رنز سکور کر کے ناٹ آؤٹ تھے۔ یہ ان کی پانچویں ڈبل سنچری تھی۔ جب وہ 181 کے سکور پر پہنچے تو ٹیسٹ کرکٹ میں آٹھ ہزار رن مکمل کرنے والے وہ تیسرے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔ ان کا سب سے زیادہ سکور 313 رنز ہے جو انھوں نے سنہ 2009۔ میں سری لنکا کے خلاف کراچی میں سکور کیا تھا۔

یونس خان میکس ویل کو چھکا لگا کر 196۔ کے سکور پر پہنچے۔ یہ ان کی اننگز کا دوسرا چھکا تھا۔ اگلے اوور میں میکس ویل کی گیند پر سنگل رن لے کر انھوں نے اپنی ڈبل سنچری مکمل کی۔ اپنی ڈبل سنچری میں انھوں نے چودہ چوکے اور دو چھکے لگائے اور اس دوران انھوں نے 334۔گیندوں کو سامنا کیا۔

مصباح الحق جو اظہر علی کے آؤٹ ہونے کے بعد میدان میں آئے تھے انھوں نے 165 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی جو ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں چھٹی سنچری تھی۔ انھوں نے اپنی اننگز میں دس چوکے اور دو چھکے لگائے۔

میچ کے دوسرے دن آسٹریلیا کو کھانے اور چائے کے وقفے کے درمیان صرف ایک کامیابی حاصل ہوئی۔ اس سے قبل اظہر علی کھیل کے پہلے ہی سیشن میں آؤٹ ہو گئے تھے۔

جمعے کی وجہ سے لنچ سے قبل کے طویل سیشن میں 101 رنز بنے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کلارک اس میچ میں اپنے سمیت آٹھ بولروں کو آزما چکے ہیں

اس سے قبل آج کا کھیل شروع ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد اظہر علی 109 رنز بنا کر مچل سٹارک کی گیند پر وکٹ کیپر ڈیوڈ وارنر کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔

یہ لیگ سٹمپ سے باہر جاتی ہوئی خراب گیند تھی لیکن اظہر اسے فلک کرنے کی کوشش میں کیپر کو کیچ تھما بیٹھے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کے اصل وکٹ کیپر بریڈ ہیڈن ایک کیچ لینے کی کوشش میں زخمی ہو کر میدان سے باہر چلے گئے تھے اور ان کی جگہ ڈیوڈ وارنر کیپنگ کر رہے ہیں۔

یونس اور اظہر کے درمیان 236 رنز کی عمدہ شراکت ہوئی۔

اس سے قبل میچ کے پہلے دن یونس خان اور اظہر علی نے ایک سست اور کم باؤنس والی وکٹ پر آسٹریلوی بالروں کے حوصلے خوب پست کیے۔ یونس خان سیریز میں مسلسل تیسری سنچری بنا کر آسٹریلوی بولنگ پر پھر برسے جبکہ اظہرعلی نے اپنے کرئیر کی چھٹی سنچری سکور کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونس خان مسلسل تین اننگز میں سنچریاں بنانے والے چوتھے پاکستانی بیٹسمین بن گئے ہیں

پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستان نے دو وکٹوں پر 304 رنز بنائے تھے۔

یونس 111 اور اظہرعلی 101 پر ناٹ آؤٹ تھے اور دونوں تیسری وکٹ کی شراکت میں 208 رنز کا اضافہ کر چکے ہیں۔

یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل تین اننگز میں سنچریاں بنانے والے چوتھے پاکستانی بیٹسمین بھی بن گئے۔ ان سے قبل ظہیرعباس، مدثرنذر اور محمد یوسف نے ٹیسٹ کرکٹ میں لگاتار تین اننگز میں سنچریاں بنا رکھی ہیں۔

یونس خان 90 سال کے عرصے کے بعد آسٹریلیا کے خلاف مسلسل تین سنچریاں سکور کرنے والے پہلے بیٹسمین بن گئے ہیں۔ ان سے قبل انگلینڈ کے ہربرٹ سٹکلف نے 25-1924 میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔

مصباح الحق پہلے ہی سوچ کر آئے تھے کہ ٹاس جیت کر انھوں نے بیٹنگ ہی کرنی ہے۔ کلارک کی ٹاس جیتنے کی دعا پوری نہیں ہوئی اور انھیں سخت گرمی میں خوب پسینہ بہا کر دو وکٹوں سے زیادہ کچھ نہ مل سکا۔

پاکستان نے دبئی کی فاتح ٹیم برقرار رکھی لیکن سیریز بچانے کے خیال سے فیصلے کرتے ہوئے آسٹریلیا نے بیٹسمین الیکس ڈولن اور سپنر سٹیو اوکیف کو باہر کر کے گلین میکسویل اور تیز بولر مچل سٹارک کی جگہ بنائی۔

پاکستان کا آغاز سست رو تھا۔ احمد شہزاد اور محمد حفیظ تیز بولروں کے خلاف پریشان نظر نہیں آئے لیکن آف سپنر نیتھن لائن احمد شہزاد کی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

57 رنز پر گرنے والی اس وکٹ میں احمد شہزاد کا حصہ 35 رنز رہا۔

دوسرے سیشن میں بھی آسٹریلوی ٹیم کو ایک ہی وکٹ مل سکی جو محمد حفیظ کی تھی۔ وہ 89 گیندوں پر صرف ایک چوکے کی مدد سے 45 رنز بناکر مچل جانسن کی گیند پر وکٹ کیپر بریڈ ہیڈن کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

محمد حفیظ سری لنکا کے خلاف 196 رنز کی اننگز کے بعد سے 19 ٹیسٹ اننگز میں صرف دو نصف سنچریاں سکور کر پائے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اظہر علی شروع میں سست روی سے کھیلے لیکن میچ کے آخری سیشن میں انھوں نے ہاتھ کھولے اور اپنی چھٹی سنچری سکور کر ڈالی

دونوں اوپنروں کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی اننگز ایک بار پھر دبئی ٹیسٹ میں سنچری شراکت قائم کرنے والے اظہر علی اور یونس خان کے گرد گھومنے لگی۔

مائیکل کلارک نے دونوں بیٹسمینوں کو الگ کرنے کے لیے کئی جتن کر ڈالے، خود سمیت آٹھ بولرز آزما ڈالے یہی نہیں بلکہ اظہرعلی کے لیے انتہائی غیر روایتی قسم کی فیلڈ پلیسنگ بھی کی، لیکن سب حربے بےسود رہے۔

اظہرعلی کو 34 اور 46 رنز پر سمتھ اور وارنرنے بچ نکلنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ کلارک نے یونس خان کے خلاف دو مرتبہ ریویو بھی لیا مگر دونوں بار تیر نشانے پر نہیں لگا۔

یونس خان نے اپنی سنچری صرف 128گیندوں پر دس چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے مکمل کی جو ان کے ٹیسٹ کرئیر کی27ویں سنچری تھی۔

اظہرعلی نے اسی سال شارجہ میں سری لنکا کے خلاف میچ وننگ سنچری کے بعد تین ہندسوں کی اننگز نہ کھیلنے کا جمود بالآخر توڑ ڈالا۔ انھوں نے اپنی چھٹی سنچری 223 گیندوں پر مکمل کی جس میں چھ چوکے شامل تھے۔

اسی بارے میں