وائٹ واش کی خواہش لیکن یہ آسان نہیں: یونس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty images
Image caption دبئی ٹیسٹ میں یونس خان نے مسلسل تیسری سنچری سکور کی

دبئی ٹیسٹ کی جیت میں دونوں اننگز کی سنچریوں کے ذریعے کلیدی کردار ادا کرنے والے یونس خان ابوظہبی ٹیسٹ میں بھی اپنی شاندار ڈبل سنچری سے پاکستانی ٹیم کو اس مقام پر لے آئے ہیں جہاں وہ جیت کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔

خود یونس خان کی یہ خواہش ہے کہ پاکستانی ٹیم یہ ٹیسٹ میچ جیت کر سیریز کو وائٹ واش پر ختم کرے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں۔

’جب آپ اچھی پرفارمنس دیتے ہیں تو آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ٹیم بھی جیتے۔ میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ ٹیم یہ ٹیسٹ میچ بھی جیتے لیکن یہ اتنا آسان نہیں کیونکہ بیٹنگ وکٹ ہے گو کہ ہمارے پاس اچھے سپنرز ہیں لیکن آسٹریلوی ٹیم اس طرح کی صورتحال سے پہلے بھی دوچار ہوچکی ہے اس کی بیٹنگ لائن اچھی ہے وہ کم بیک کرنے کی اہلیت رکھتی ہے ہمیں بہت سخت محنت کرنی ہوگی۔‘

یونس خان کو اس بات کی خوشی ہے کہ ان کی کارکردگی کی وجہ سے پاکستانی ٹیم نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔

’ون ڈے ٹیم سے باہر ہونے کے بعد میں مایوس نہیں تھا لیکن میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک بڑی ٹیم کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلوں تو میری کارکردگی بھی قابل ذکر رہے۔ میں نے یہاں آ کر بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کے ساتھ سخت ٹریننگ کی اور آسٹریلوی ٹیم کو بھی پریکٹس کرتے دیکھا وہ ایک ہفتہ میرے لیے بہت کارآمد رہا۔‘

یونس خان کہتے ہیں کہ وہ کسی کو متاثر کرنے کے خیال سے ٹیم میں نہیں آئے تھے۔

’مجھے یہ کسی کو نہیں دکھانا تھا کہ میں کیا ہوں۔ میں صرف یہ سوچ رہا تھا کہ میں کوئی ایسی کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوسکوں جو ٹیم کے کام آئے جو ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز ہاری ہوئی تھی۔‘

یونس خان کو اپنی ڈبل سنچری مکمل کرنے کے لیے تماشائیوں سے بہت حوصلہ ملا۔

’ایک سو ساٹھ کے سکور پر میرا جسم ساتھ چھوڑ رہا تھا لیکن میں نے دیکھا کہ شائقین میدان کی طرف چلے آرہے ہیں لہذامیں نے سوچا کہ اگرمیں ہمت کرکے ڈبل سنچری مکمل کرلیتا ہوں تو میری بیٹنگ دیکھنے کے لیے آنے والوں کو خوشی کا لمحہ فراہم کرسکتا ہوں۔‘

یونس خان اپنی شاندار ڈبل سنچری کے ساتھ اظہرعلی اور مصباح الحق کی سنچریوں کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں۔

’اظہرعلی نے بہت ہی اچھی اننگز کھیلی۔ مصباح الحق کے اوپر اس سیریز سے قبل بہت دباؤ تھا لیکن انہوں نے بھی شاندار سنچری بنائی۔وہ مثبت سوچ کے ساتھ کھیلے اور ان کے پاس گیم پلان موجود تھا۔‘

یونس خان نے اپنی گفتگو کو ان الفاظ پر ختم کیا کہ وہ پاکستانی ہونے پر بہت فخر محسوس کررہے ہیں۔

اسی بارے میں