’ہوا کیا، پاکستان اچھا کھیلا یا آسٹریلیا برا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty images
Image caption ابو ظہبی ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو مایوس کن صورت حال کا سامنا ہے

ابوظہبی میں آسٹریلیا کے خلاف پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن کے اختتام پر 370 رنز کی مجموعی برتری حاصل کر کے اس میچ میں اپنی پوزیشن کو ناقابل شکست بنا لیا ہے۔ اس پوزیشن میں آسٹریلیا کے لیے میچ اور ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کی حزیمت سے بچنا تقریباً ناممکن نظر آ رہا ہے۔

میچ کے دو دن باقی ہیں، پاکستان کی دوسری اننگز جاری ہے اور اس کے آٹھ کھلاڑی باقی ہیں۔

شائقین کرکٹ کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ کیا یونس خان آسٹریلیا کے خلاف مسلسل چار سنچری سکور کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر انھوں نے یہ کارنامہ سر انجام دے دیا تو وہ ایسا کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی ہوں گے اور یہ کرکٹ کی ریکارڈ بکس میں لمبے عرصے تک برقرار رہنے والا ریکارڈ ہو گا۔

پاکستان کے کپتان مصباح الحق کی ٹیم کو آسٹریلیا پر اتنی برتری حاصل تھی کہ اسے فالو آن کر سکتے تھے، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا اور پاکستان نے اپنی دوسری اننگز شروع کر دی۔

مصباح کے فیصلے پر یقیناً کرکٹ مبصرین تفصیلاً بحث کریں گے لیکن بظاہر اس کی دو وجوہات نظر آ رہی تھیں۔ اول یہ کہ وہ اس میچ میں پاکستان کی پوزیشن اس قدر مستحکم کرنا چاہتے ہیں کہ آسٹریلیا کے خلاف ٹسیٹ سریز میں وائٹ واش کا موقع کسی طرح ضائع نہ ہو۔ دوئم یہ کہ یونس خان کو دنیا کی بڑی ٹسیٹ ٹیم کے خلاف مسلسل چار سنچریاں بنانے کا موقع مل جائے۔

اس بات کا اظہار پاکستان کے بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے یہ کہتے ہوئے کیا کہ وہ مصباح کے فیصلے پر قطعاً حیران نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مصباح چاہتے ہیں کہ اس میچ میں صرف ایک ہی ’ونر‘ یا فاتح نظر آئے۔

گرانٹ فلاور نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے بولر دن بھر کی مشقت کے بعد کافی تھک چکے تھے۔ گرانٹ کے بقول چوتھے دن پاکستان کھانے کے وقفے تک بیٹنگ کرے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یونس خان کھانے کے وقفے تک اپنی سنچری مکمل کر پائیں گے۔ تیسرے دن کھیل ختم ہونے پر یونس خان جس رفتار سے کھیل رہے تھے اس کو دیکھتے ہوئے یہ لگ رہا ہے کہ شاید یہ ممکن نہ ہو۔

کھانے کے وقفے کے بعد پاکستان اپنی اننگز ڈیکلئر کرنے میں جتنی تاخیر کرے گا میچ کے ڈرا ہونے کا خطرہ بھی اسی طرح بڑھتا جائے گا۔ آسٹریلیا جیسی ٹیم کے خلاف آپ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہیں گے۔

خاص طور پر ایک ایسی صورت حال میں کہ بیس سال بعد پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف سیریز جیتنے کا موقع ہاتھ آیا ہے۔ پاکستان اپنی سرزمین یا ہوم سیریز میں آسٹریلیا کو ماضی میں پانچ مرتبہ ہرا چکا ہے۔

ایک روزہ سیریز میں شرمناک شکست کے بعد ٹسیٹ سیریز میں پاکستان کی شاندار کارکردگی پر شائقین کے ساتھ ساتھ مبصرین بھی حیران ہیں۔

اس کارکردگی پر بی بی سی آن لائن کے ایک ساتھی نے حیرانی سے پوچھا ’ہوا کیا ہے؟ پاکستان بہتر کھیل رہا ہے یا آسٹریلیا بُرا؟‘

حقیقتاً پاکستان کے کھلاڑی بہت اچھا کھیل رہے ہیں اور آسٹریلیا کا روائتی رنگ ابوظہبی میں نظر نہیں آ رہا۔

اسی بارے میں