پاکستان کلین سویپ کے قریب، مصباح کے عالمی ریکارڈز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کپتان کی تیز ترین سنچری نے پاکستان کی پوزیش کو مزید مستحکم کر دیا ہے

کپتان مصباح الحق کے عالمی ریکارڈز کے بعد مایوسی کی انتہا کو پہنچی ہوئی آسٹریلوی بیٹنگ لائن اب پاکستانی بولنگ کے رحم وکرم پر دکھائی دیتی ہے۔

پہاڑ جیسے 603 رنز کے ہدف کے ملبے تلے آسٹریلیا کی چار وکٹیں چوتھے دن کھیل کے اختتام تک گرچکی تھیں اور اس کا سکور 143 رنز تھا اس طرح اسے ایک ناقابلِ یقین جیت کے لیے اب بھی 460 رنز درکار ہیں۔

گرنے والی پہلی تین وکٹیں ذوالفقار بابر نے صرف 19 گیندوں پر حاصل کر ڈالیں۔

کرس راجرز کو سلپ میں اسد شفیق نے کیچ کیا۔گلین میکسویل ایل بی ڈبلیو ہوئے اور مائیکل کلارک بولڈ ہوئے۔

جب ڈیوڈ وارنر 58 رنز بنا کر محمد حفیظ کی گیند پر یاسر شاہ کے ہاتھوں کیچ ہوئے تو آسٹریلیا کا سکور 101 رنز تھا۔

مچل مارش اور سٹیو سمتھ کے درمیان 42 رنز کی شراکت نے وکٹیں گرنے کے سلسلے کو روکا۔

سمتھ 38 اور مارش 26 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

آج بھی پاکستانی بیٹسمین خوب گرجے خوب برسے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اظہر علی نے بھی اس میچ کی دونوں اننگز میں سنچری سکور کی

مصباح الحق نے ٹیسٹ کرکٹ کی تیز ترین سنچری کا 28 سالہ ریکارڈ برابر کیا اور تیز ترین نصف سنچری کا دس سالہ پرانا ریکارڈ توڑ ڈالا۔

مصباح الحق نے اپنی سنچری 56 گیندوں پر مکمل کی۔ ان سے قبل ویسٹ انڈیز کے ویوین رچرڈز نے1986 میں انگلینڈ کے خلاف انٹیگا ٹیسٹ میں 56گیندوں پر سنچری سکور کی تھی۔

ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی طرف سے تیز ترین سنچری کا ریکارڈ ماجد خان کا تھا جنھوں نے1976 میں نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں 74 گیندوں پر سنچری بنائی تھی۔

مصباح الحق نے اپنی نصف سنچری21 گیندوں پر مکمل کی۔ ان سے قبل عالمی ریکارڈ جنوبی افریقہ کے ژاک کیلس کا تھا جنھوں نے2004 میں زمبابوے کے خلاف کیپ ٹاؤن میں 24 گیندوں پر نصف سنچری بنائی تھی۔

مصباح الحق نے وقت کے لحاظ سے بھی تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ 24 منٹ میں قائم کر ڈالا جو اس سے قبل بنگلہ دیش کے اشرفل نے بھارت کے خلاف27 منٹ میں بنایا تھا۔

مصباح الحق اور اظہر علی نے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنا کر کسی ٹیسٹ میچ میں دو بیٹسمینوں کی جانب سے دونوں اننگز میں سنچریوں کا 41 سالہ ریکارڈ بھی برابر کر دیا۔

1973 میں آسٹریلیا کے گریگ چیپل اور ای این چیپل نے نیوزی لینڈ کے خلاف ویلنگٹن ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنائی تھیں۔

آج گرنے والی واحد وکٹ یونس خان کی تھی جو 46 رنز بناکر سمتھ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے اس کے بعد مصباح الحق نے خلاف توقع انتہائی جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے نہ صرف نئی تاریخ رقم کی بلکہ اس تاثر کی بھی نفی کردی جو ان کی سست بیٹنگ کے بارے میں قائم ہے۔

مصباح الحق نے سٹارک کو مسلسل دو چوکے لگا کر رچرڈز کا ریکارڈ برابر کیا ساتھ ہی وہ دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے والے پاکستان کے آٹھویں بیٹسمین بن گئے۔

اظہرعلی نے پہلی اننگز کی طرح اس بار بھی اعتماد سے بیٹنگ کی اور ایک 174 گیندوں پر چھ چوکوں کی مدد سے سنچری مکمل کرکے دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے والے نویں پاکستانی بیٹسمین بنے۔

مجموعی طور پر اس میچ پاکستان کی طرف سے ایک ڈبل سنچری اور چار نصف سنچریاں بنائی گئیں۔

دونوں کے درمیان چوتھی وکٹ کی شراکت میں ایک 141 رنز بنے۔

مصباح نے پاکستانی اننگز 293 رنز تین کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیر کردی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف کسی ٹیسٹ کی دونوں اننگز ڈ کلیئر کی ہیں۔

مصباح الحق گیارہ چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے ایک سو ایک اور اظہرعلی چھ چوکوں کے ساتھ ایک سو رنز بناکر ناٹ آؤٹ تھے۔

اسی بارے میں