سلیم شہزاد کے خاندان کو انصاف کی امید نہیں

Image caption ہم نے ابتدا میں ہی اس کمیشن کی اہلیت کے بارے میں اعتراض کیا تھا: حمزہ امیر

پاکستانی صحافی اور شدت پسندی پر ایک کتاب کے مصنف سید سلیم شہزاد کو 29 مئی 2011 کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا۔ بعد میں ان کی تشدد شدہ لاش ملی جس نے ملک بھر میں بڑی تعداد میں لوگوں کو شدید صدمے سے دوچار کیا۔

شک کی انگلی کئی طرف اٹھائی گئی جن میں ریاستی ادارے بھی شامل تھے۔ ملک بھر میں احتجاج ہوا اور ذرائع ابلاغ نے اسے ایک سنگین مسئلے کے طور پر بھرپور انداز میں اٹھایا۔ تحقیقات کے لیے حسب معمول تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا۔ کمیشن نے ڈیڑھ سال میں تحقیقات مکمل کیں لیکن قاتل کی نشاندہی نہ ہو سکی۔

آج دنیا بھر میں پہلی مرتبہ صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے اور اس میں ملوث افراد کو سزائیں دلوانے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سلیم شہزاد جیسے صحافیوں کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچانا ہے۔

سلیم شہزاد قتل: ’کوئی بھی فریق ملوث ہو سکتا ہے‘

کیا کوئی آئی ایس آئی کو قابو میں لا سکتا ہے؟

سلیم کے قتل سے پہلے حیات اللہ اور بعد میں ارشاد مستوئی جیسے صحافیوں کا پاکستان میں قتل بند نہیں ہوا ہے۔ سنہ 2000 سے پاکستان میں سو صحافی قتل ہو چکے ہیں۔ ماسوائے اس سال کراچی کے صحافی ولی جان بابر اور امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے کسی کے قاتلوں کی نشاندہی نہیں ہو سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سلیم شہزاد کے موت کے بعد متعدد صحافی قتل ہو چکے ہیں

کئی قومی اور بین الاقوامی صحافی تنظیموں نے حکومت پاکستان سے اس سلسلے میں اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک پاکستان نے وزیر اعظم نواز شریف کو ایک خط میں ملک میں خصوصی وفاقی پراسیکیوٹر مقرر کرنے، صحافیوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ کرنے اور ان کے لواحقین کے لیے مناسب امداد کا تقاضہ کیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سلیم شہزاد کے برادر نسبتی حمزہ امیر نے قتل کے تین سال بعد بھی انصاف کے حصول کے لیے ان کی اب تک کی تمام کوششوں کو بےسود قرار دیا ہے: ’جب یہ حادثہ پیش آیا تو یہ بڑا ایشو بن گیا تھا۔ پاکستانی میڈیا نے آواز اٹھائی، احتجاج ہوا اور ہر کسی نے انصاف مانگا۔

’لیکن کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد سے مکمل سناٹا ہے۔ شاید یہ میڈیا کے لیے پرانی خبر بن گئی تھی۔ ہمارے لیے ہر سال نئی بات نئے ایس ایچ او کا ٹیلی فون ہے جس میں وہ ہم سے کسی نئی معلومات کے بارے دریافت کرتے ہیں اور یہ کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی نئی خبر نہیں ہے۔ ہمارے خاندان کو کسی انصاف کی کوئی امید نہیں ہے۔‘

حمزہ امیر خود بھی صحافت کے پیشے سے منسلک ہیں۔ وہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ سے مطمئن نہیں ہیں: ’ہم نے ابتدا ہی میں اس کمیشن کی اہلیت کے بارے میں اعتراض کیا تھا۔ کمیشن اتنا طاقتور نہیں تھا کہ تمام عناصر کی مناسب تحقیقات کرتا۔ وہ ہم سے ہر مرتبہ مشتبہ افراد کے نام مانگتا رہا۔ ہماری واحد امید یہ تھی کہ کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد یہی میڈیا اسے اٹھائے گا۔ مگر یہ نہ ہو سکا۔ سلیم شہزاد کا نام بین الاقوامی میڈیا میں تو کبھی کبھار سنائی دیتا ہے، پاکستانی میڈیا میں نہیں۔‘

انٹرویو میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے کئی افراد نے خفیہ اداروں کے بارے میں شک ظاہر کیا جس کے بارے میں خود کمیشن نے لکھا تھا کہ وہ ان سے پوچھ گچھ نہیں کر سکے:

’یہ ایک اہم نکتہ تھا جس کی جامع تحقیقات ہونی چاہیے تھیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ ملوث ہوں گی لیکن یہ ایک پہلو ضرور تھا۔ سلیم کے بعد 30 صحافی قتل ہو چکے ہیں اور کسی کو انصاف نہیں مل سکا۔ اس کا کیا مطلب ہے؟‘

حمزہ امیر اس تجویز سے متفق ہیں کہ خفیہ اداروں کو اپنا نام صاف کرنے کے لیے بھی ضروری تھا کہ قاتلوں تک پہنچنے میں مدد دیتے:

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن نے ڈیڑھ سال میں تحقیقات مکمل کیں لیکن قاتل کی نشاندہی نہ کر سکی

’جب بھی کسی ایجنسی کا نام آتا ہے تو وہ اندورن خانہ تفتیش کرتی ہے۔ سلیم شہزاد کے واقعے کے بعد بھی انھوں نے کئی وضاحتی اخباری بیانات جاری کیے۔ موجودہ حکمراں جماعت اس وقت حزب اختلاف میں تھی۔ اس نے مکمل مدد کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن اب حکومت میں آنے کے بعد بھی انھوں نے کچھ نہیں کیا۔

’انھوں نے صحافیوں کی نگرانی کے لیے سیل بند کرنے کی بات کی تھی وہ بھی نہیں ہو سکا ہے۔ میں کمیشن سے کہتا رہا کہ وہ دریافت کریں کہ کیسے سلیم کی تیل سے بھری ہوئی گاڑی وہاں پہنچی جہاں سلیم کی لاش ملی تھی۔ وہ وہاں لا کر رکھی گئی تھی چل کر نہیں آئی تھی، لیکن کمیشن نے کچھ نہ کیا۔‘

سلیم شہزاد اور دیگر صحافیوں کے لواحقین کے لیے حکومتی کمیشن کے علاوہ انصاف حاصل کرنے کا کوئی دوسرا راستہ دستیاب نہیں ہے۔ حمزہ کہتے ہیں کہ انھیں عالمی عدالت میں جانے کے لیے کہا گیا لیکن اس کے لیے ہمیں میڈیا کی مدد کی ضرورت تھی۔ ہم ایک خاندان کے طور پر وہاں نہیں جا سکتے تھے کیونکہ پھر ہم میں اور کریم خان میں کوئی فرق نہ رہ جاتا۔‘

سلیم شہزاد کے تین بچے آج تک دوبارہ واپس اسلام آباد نہیں آئے ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا اے لیول میں ہے، جبکہ بیٹی 16 سال کی ہوگئی ہے۔ چھوٹا بیٹا خصوصی بچہ ہے، جس کی مناسب دیکھ بھال خاندان کے لیے چیلنج ہے۔

حمزہ امیر کہتے ہیں کہ ’قاتلوں تک تو پہنچنا مشکل ہے لیکن صحافیوں کی انشورنس اور ان کے بال بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت آج کل سے زیادہ ہے۔ انصاف ملنا ناممکن ہو جس ملک میں وہاں لواحقین پھر اور کیا مانگیں؟‘

اسی بارے میں