تندولکر کو کپتان بنانے کی پیشکش کا دعویٰ بے بنیاد ہے: چیپل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوچ بننے کے بعد ایک دن چیپل میرے پاس آئے اور بولے، ظہیر، میں جب تک کوچ رہوں گا تم ہندوستان کے لیے نہیں كھیلوگے: ظہیر خان

بھارتی کرکٹر سچن تندولکر کی سوانح عمری 'پلیئنگ اٹ مائی وے' کی باقاعدہ رونمائی بدھ کے روز ممبئی میں ہوئی لیکن اس کتاب کے حوالے سے متضاد بیانات کا سلسلہ کئی روز پہلے ہی سے جاری ہیں۔

کتاب کے بعض متنازع اقتباسات پریس میں ریلیز ہوتے ہی مختلف کھلاڑیوں کی طرف سے سچن تندولکر کی حمایت میں رد عمل آنے شروع ہوگئے۔ لیکن بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ گریگ چیپل نے سچن تندولکر کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ "چیپل راہول ڈراوڈ کو کپتانی سے ہٹا کر سچن کو کپتان بنانا چاہتے تھے۔

بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سورو گنگولی، تیز گیند باز ظہیر خان اور آف سپنر ہربھجن سنگھ نے تندولکر کےگریگ چیپل کو ’رنگ ماسٹر‘ کہنے کے دعوے کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں بھارتی کرکٹ کو بہت نقصان ہوا۔

کرکٹ ڈاٹ کام ڈاٹ اے يو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں چیپل نے کہا کہ ’میں زبانی جنگ میں الجھنا نہیں چاہتا، میں صاف اور واضح کہہ سکتا ہوں کہ بھارتی ٹیم کا کوچ رہنے کے دوران میں نے کبھی راہل ڈراوڈ کی جگہ سچن کو کپتان بنانے کی کوشش نہیں کی تھی۔‘

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سچن نے اپنی سوانح عمری ’پلیئنگ اٹ مائی وے‘ میں لکھا ہے کہ سنہ 2007 کے ورلڈ کپ سے چند ماہ قبل چیپل نے انھیں ڈراوڈ کی جگہ کپتان بننے کی تجویز پیش کی تھی۔

گریگ چیپل نے اس کے جواب میں کہا:’میں کتاب میں اس طرح کے دعوے سے بے حد حیران ہوں۔ میں سچن کےگھر صرف ایک بار گیا ہوں اور وہ بھی اس وقت کے فزيو اور اسیسٹنٹ کوچ کے ساتھ، ڈراوڈ کو معلوم تھا۔‘

ادھر سابق بھارتی کپتان سورو گنگولی نے اس انکشاف کے رد عمل میں کہا ہے کہ ان کے ساتھی کھلاڑیوں اور سابق کپتان راہل ڈراوڈ کو اس بارے میں سب پتہ تھا کہ چیپل کا مقصد کیا تھا لیکن پھر بھی ڈراوڈ چیپل پر قابو نہیں پا سکے۔

گنگولی نے کہا کہ ’میں اب اتنا پیچھے نہیں جانا چاہتا، سبھی نے نتائج دیکھے تھے۔ وہ بھارتی کرکٹ کا ایک بے حد خراب دور تھا اور ایک کرکٹر کے لیے بھی، خاص طور پر جب میں کھلاڑی ہوں۔ جھوٹ پر جھوٹ بولے گئے اور چھ ماہ بعد وہ (چیپل) ڈراوڈ کو ہٹا کر سچن کو کپتانی سونپنا چاہتے تھے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ (چیپل) کس طرح اپنے کام کو انجام دے رہے تھے۔‘

تیز گیند باز ظہیر خان اور ہربھجن سنگھ نے بھی چیپل پر تنقید کی ہے۔ظہیر خان کا کہنا ہے کہ چیپل نے سنہ 2005 میں ان سے کہا تھا کہ جب تک وہ ٹیم کے کوچ ہیں تب تک وہ کبھی بھارت کے لیے نہیں کھیل پائیں گے۔

ظہیر نے کہا کہ ’کوچ بننے کے بعد ایک دن چیپل میرے پاس آئے اور بولے، ظہیر، میں جب تک کوچ رہوں گا تم ہندوستان کے لیے نہیں كھیلوگے۔‘

ظہیر نے مزید کہا کہ ’میں حیران تھا۔ میں کیا کروں، کیا میں بغاوت کروں۔ کپتان سے پوچھوں کہ کیا ہوا ہے؟‘

آف سپنر ہربھجن سنگھ نے کہا ہے کہ ٹیم کے کچھ کھلاڑی اس آسٹریلوی کو ’غلط معلومات‘ فراہم کرتے تھے۔ ہربھجن نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ چیپل نے ہندوستانی کرکٹ کو اس حد تک برباد کر دیا تھا کہ اسے واپس پٹری پر آنے میں کم سے کم تین سال لگ گئے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ وہ کون سے کھلاڑی تھے جو چیپل کو ’غلط معلومات‘ فراہم کر رہے تھے، ہربھجن نے کہا کہ ’جب صحیح وقت آئے گا تو نام ظاہر ہو جائیں گے۔‘