’میں کرکٹ کا خدا نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے لیکن مجھے یہ اچھا لگ رہا ہے‘

بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی سابق بھارتی کپتان سچن تندولکر ہیں۔

24 سال پر محیط کیریئر میں ’لِٹل ماسٹر‘ نے 200 ٹیسٹ میچ کھیلے، 15,921 رنز بنائے اور 463 ایک روزہ میچوں میں 18,426 رنز بنائے۔ ان برسوں کے دوران سچن کی شہرت کھیل کے میدان سے کہیں آگے نکل گئی اور بھارت کے طول و عرض میں لوگ ان کی پوجا کرنا شروع ہو گئے۔

سچن سنہ 2013 میں کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے تھے اور اب ان کی عمر 41 سال ہو گئی ہے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں دنیائے کرکٹ کے اس عظیم کھلاڑی نے کئی موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ریٹائرمنٹ کی زندگی

ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے لیکن مجھے یہ اچھا لگ رہا ہے۔ میں زندگی کے ایک دوسرے رخ کو جاننے لگ گیا ہوں۔ 24 سال تک میرا اوڑھنا بچھونا کرکٹ تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ میری زندگی کی پہلی اننگز صرف کرکٹ کھیلنے اور اپنے خواب کو پورا کرنے کی اننگز تھی، میرا خواب ورلڈ کپ جیتنا تھا۔

میری زندگی کی دوسری اننگز ریٹائرمنٹ کے بعد شروع ہوئی ہے جس میں میری کوشش ہے کہ میں ان لوگوں کو کچھ لوٹاؤں جنھوں نے اتنے برس تک میرا ساتھ دیا اور میرے لیے دعائیں کیں۔

بہترین لمحہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ لوگ مجھے اتنا پسند کرتے ہیں‘

ورلڈ کپ جیتنا میرا خواب تھا۔ مجھ میں صبر تھا، لیکن میں اپنے ہاتھوں میں ٹرافی اٹھانے کے لیے 22 سال تک انتظار کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ہم دو مرتبہ عالمی کپ جیتنے کے قریب قریب پہنچے تھے۔ اور پھر آخر کار سنہ 2011 میں وہ خوبصورت لمحہ آ گیا۔ میرا خیال ہے کہ وہ میرے کیریئر کا بہترین لمحہ تھا، جب ہم میدان کے درمیان میں کھڑے تھے اور پوری قوم خوشی سے ناچ رہی تھی۔اس جوش اور خوشی کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

کبھی بہت زیادہ دباؤ محسوس کیا؟

کرکٹ کھیلنا میرے لیے کبھی بھی بوجھ نہیں بنا، بلکہ میدان میں اترنے میں ہمیشہ لطف آتا تھا۔ لوگوں کو مجھ سے بہت توقعات ہوتی تھیں، اور مجھے یہ اچھا لگتا تھا کیونکہ لوگوں کو یقین ہوتا تھا کہ میں ان کی امیدوں پر پورا اتر سکتا ہوں۔ اگر میں اچھا کھیلتا تھا، تو میں اسے مزید بہتر بنانے کی سوچتا تھا۔ میں زیادہ محنت کرنے کے بہانے ڈھونڈتا تھا اور میرے مداح مجھ سے امیدیں باندھ کر مجھے مزید محنت کرنے پر مجبور کر دیتے تھے۔ ایک مرتبہ جب میں میدان میں پہنچ جاتا تھا تو پھر ہر قسم کے دباؤ کو بھول جاتا تھا۔ اس کے بعد میرا بلا ہوتا تھا اور گیند۔

اتنی پذیرائی

میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ لوگ مجھے اتنا پسند کرتے ہیں، اتنی محبت کرتے ہیں۔ یہ میرے لیے بہت اہم، بہت خاص چیز ہے۔ مجھے لگتا ہے مجھ پر خدا کی رحمت ہے۔ خدا مجھ پر مہربان رہا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ جو کچھ مجھے ملا وہ میرا حق تھا۔ میرے اپنے ہر ایک مداح کا مشکور ہوں کہ اس نے اتنی مہربانی کی۔ میں کرکٹ کی دنیا کا خدا نہیں ہوں۔ میں نے میدان میں بے شمار غلطیاں کی ہیں۔ میں نے کرکٹ سے محبت کی ہے، لیکن میں صرف ایک عام آدمی ہوں اور مجھے ایسا ہی سمجھا جانا چاہیے۔

اعصاب قابو میں رکھنا

میں اپنے سکول کے دنوں سے ہی ایک بے چین یا نروس لڑکا تھا۔ بعد میں اپنے کریئر کے دوران میں نے محسوس کیا کہ میں واقعی جلد پریشان ہو جاتا ہوں، لیکن پھر میں نے سوچا: ’میں کیا کروں، میں ہوں ہی ایسا۔‘

میں بڑے میچوں سے پہلے رات بھر سو نہیں پاتا تھا، سوچتا رہتا تھا کہ میں صبح کیسا کھیلوں گا۔ پھر میں اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ میرا ذہن، میرا جسم خود کو اسی طرح میچ کے لیے تیار کرتا ہے، چنانچہ میں نے اس بات کو قبول کرنا شروع کر دیا، اسے گلے لگانا شروع کر دیا۔ مجھے کچھ عرصہ لگا، 14، 13 سال کا عرصہ۔ میں جب تک پہلی گیند کھیل نہیں لیتا تھا، بے چین رہتا تھا۔ ایک مرتبہ جب میں پہلی گیند کا سامنا کر لیتا تھا، تو پھر سب ٹھیک ہو جاتا تھا۔

بین الاقوامی میچوں میں 100ویں سینچری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹیسٹ کرکٹ کی حیثیت ویسی ہی ہے جیسے کسی دعوت میں مرکزی کھانے یا ’مین ڈِش‘ کی ہوتی ہے

سو رنز بنانا آسان نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے آپ کو میدان میں اتر کر بہت اچھے کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ میرے کریئر میں مارچ سنہ 2010 سے لے کر مارچ سنہ 2012 تک 99 سے 100 تک جانے کا مشکل دور رہا ہے، کیونکہ اس زمانے میں ہر کوئی یہ کہنے لگ گیا تھا کہ میں سوویں سینچری نہیں بنا سکوں گا۔ لوگوں نے میری سینچری کو سر پر سوار کر لیا تھا۔ جب ہر کسی کی نظر میری سینچری پر ٹِک گئی، تو ان دنوں مجھ پر دباؤ بڑھنے لگا اور میری کارکردگی متاثر ہونے لگ گئی تھی۔

بہترین سینچری

سب سے زیادہ نتیجہ خیز سینچری وہ تھی جو میں نے سنہ 2008 میں انگلینڈ کے خلاف چینئی میں بنائی تھی۔یہ وہ وقت تھا جب ممبئی میں دہشت گردانہ حملے کے بعد پوری قوم کو تلاش تھی کہ چاہے تھوڑی دیر کے لیے سہی، اس کا دھیان بٹ جائے۔ دنیا بھر میں تمام بھارتیوں کے لیے یہ ایک مشکل وقت تھا۔ مجھے بڑا فخر ہے کہ میں نے اس وقت سینچری بنائی اور لوگوں کو ممبئی حملے کے علاوہ کوئی دوسری بات کرنے کو ملی۔ اس سنیچری سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آ گئی، جو میرے لیے مزید اطمینان کی بات تھی۔

پچھتاوے

میرے کیریئر میں کئی پچھتاوے ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ کیریئر کا حصہ ہوتے ہیں۔ مجھے کوئی خواہش نہیں کہ میں کہوں کہ یہ ہوتا تو اچھا ہوتا، وہ ہوتا تو اچھا ہوتا۔

ٹیسٹ کرکٹ کا مسقتبل

ٹیسٹ کرکٹ کی حیثیت ویسی ہی ہے جیسے کسی دعوت میں مرکزی کھانے یا ’مین ڈِش‘ کی ہوتی ہے۔ کرکٹ کی باقی قسمیں سٹارٹرز یا میٹھے کی طرح ہوتی ہے۔ اگر آپ کرکٹ کے دس کھلاڑیوں سے پوچھیں تو مجھے حیرت نہیں ہوگی اگر ان میں سے آٹھ یہ کہیں کہ سرِ فہرست ٹیسٹ کرکٹ ہے، اس کے بعد کرکٹ کی باقی اقسام۔

کیا سچن کا بیٹا باپ کے نقشِ قدم پر چلے گا؟

پہلے کرکٹ کا آپ کے دل میں ہونا ضروری ہے۔ کرکٹ دل کے بعد ہی دماغ تک پہنچتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ میرے بیٹے کو کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ ہے۔

اسی بارے میں