ابوظہبی ٹیسٹ: نیوزی لینڈ یقینی شکست کے دہانے پر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیگ سپنر یاسر شاہ نے نہایت عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیوی بلے بازوں کے لیے شدید مشکلات پیش کیں

ابوظہبی ٹیسٹ میں کھیل کے چوتھے روز کے خاتمے پر 480 رنز کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے 174 رنز بنائے تھے اور اس کی آٹھ وکٹیں گر چکی ہیں۔

نیوزی لینڈ کو شکست سے بچنے کے لیے پانچویں دن 90 اوور کھیلنا ہوں گے جب کہ پاکستان کو دو مزید وکٹوں کی ضرورت ہے۔

آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں ٹام لیتھم، کپتان برینڈن میک کلم، راس ٹیلر، کین ولیم سن، جیمز نیشم، بی جے واٹلنگ، کوری اینڈرسن اور ٹم ساؤدی شامل ہیں۔

مارک کریگ اور ایش سودی نے کھیل کے آخری گھنٹے میں پاکستانی سپنروں کا جم کا مقابلہ کیا اور میچ کو پانچویں دن تک لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔

دونوں نے 27، 27 رنز بنا رکھے ہیں۔

پہلی اننگز کے سنچری میکر لیتھم 20 رنز بنا کر ذوالفقار بابر کی گیند پر یاسر شاہ کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ کپتان برینڈن میک کلم 39 رنز بنا کر یاسر شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے جب کہ راس ٹیلر پہلی اننگز کی طرح اس بار بھی ناکام ہوئے اور صرف آٹھ رنز بنا سکے۔ انھیں بھی یاسر شاہ نے ایل بی ڈبلیو کیا۔

پاکستان کی طرف سے اب تک راحت علی نے تین، یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر نے دو دو، جب کہ محمد حفیظ نے ایک وکٹ حاصل کی ہے۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: تیسرے دن کا کھیل، تصاویر

’جدید کرکٹ میں فالو آن کا رواج کم ہوتا جا رہا ہے‘

اس سے قبل پاکستان نے دو وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ گذشتہ پانچ اننگز میں پاکستان کی مسلسل پانچویں ڈیکلیئریشن ہے۔

پاکستانی اننگز کی خاص بات محمد حفیظ کی عمدہ بیٹنگ تھی جنھوں نے آؤٹ ہوئے بغیر 130 گیندوں پر 101 رنز بنائے۔ ان کے ساتھ کریز پر سرفراز احمد موجود تھے جنھوں نے 13 رنز سکور کیے۔

لنچ کے بعد یونس خان کے 28 رنز پر اش سودی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہونے کے بعد وکٹ کیپر سرفراز احمد کو کھیلنے کی لیے بھیجا گیا۔ سرفراز نے حفیظ کے ساتھ مل کر ایک روزہ میچوں کے انداز میں کھیلنا شروع کر دیا اور آخری دن اووروں میں 68 رنز بنا ڈالے۔

اس سے قبل اظہر علی کو نیوزی لینڈ کے لیگ سپنر اش سودی نے 23 رنز پر ایل بی ڈبلیو کر دیا تھا۔

تیسرے دن کے اختتام پر دونوں نے بالترتیب نو اور پانچ رنز بنائے تھے اس طرح پاکستان کی نیوزی لینڈ پر مجموعی برتری 319 رنز ہو گئی تھی اور دوسری اننگز میں اس کی تمام وکٹیں باقی ہیں۔

سر میں چوٹ آنے کی وجہ سے پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے احمد شہزاد اوپننگ کے لیے نہ آ سکے اور ان کی جگہ اظہر علی آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption راحت علی نے پاکستان کے لیے چار وکٹیں حاصل کی ہیں

اس سے پہلے ٹیسٹ کے تیسرے دن پاکستان کی پہلی اننگز566 رنز کے جواب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم 262 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔

اس طرح پاکستان کو نیوزی لینڈ پر پہلی اننگز میں 304 رنز کی وسیع برتری حاصل ہوئی۔

پاکستان کے کپتان مصباح الحق نے نیوزی لینڈ کو فالو آن نہ کراتے ہوئے 304 رنز کی برتری سے دوسری اننگ کا آغاز کر دیا۔

نیوزی لینڈ کے اوپنر ٹام لیتھم اپنی ٹیم کے ٹاپ سکورر رہے اور وہ 13 چوکوں کی مدد سے سنچری بنانے کے بعد راحت علی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

انھوں نے واٹلنگ کے ساتھ مل کر چھٹی وکٹ کے لیے 65 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیوزی لینڈ کے اوپنر لیتھم نے پاکستانی بولرز کے سامنے مزاحمت پیش کی اور سنچری سکور کی

پاکستان کی جانب سے راحت علی نے چار جبکہ ذولفقار بابر نے تین وکٹیں لیں ایک ایک وکٹ محمد حفیظ اور یاسر شاہ کے حصے میں آئی جبکہ نیوزی لینڈ کا ایک کھلاڑی رن آؤٹ ہوا۔

اس سے قبل پہلے ٹیسٹ کے دوسرے دن پاکستان نے صرف تین وکٹوں کے نقصان پر 566 رنز بناکر پہلی اننگز ڈکلیئر کر دی تھی۔پاکستان کی جانب سے احمد شہزاد، یونس خان اور کپتان مصباح الحق نے سنچریاں سکور کی تھیں۔

اسی بارے میں