ایک اور کلین سویپ کی جانب پہلا قدم؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دو سو اڑتالیس رنز کی اس جیت نے مصباح الحق کو پاکستان کا کامیاب ترین کپتان بھی بنا دیا ہے

ہاتھی نکل گیا دم اٹک گئی۔

کرکٹ میں یہ بات اس وقت کہی جاتی ہے جب بولر ٹاپ آرڈر بیٹسمین کو آسانی سے قابو کر لیں لیکن ٹیل اینڈر آؤٹ ہونے کا نام نہ لیں۔

ابوظہبی ٹیسٹ کے آخری دن جیت کا بےصبری سے انتظار کرنے والی پاکستانی ٹیم کو بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب دسویں نمبر کے بیٹسمین اش سوڈھی اس کی جان کو آ گئے۔

سوڈھی کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ ان کا کچھ بھی داؤ پر نہیں لگا ہوا اس لیے وہ کھل کر کھیلے۔

ان کے کریئر بیسٹ 63 رنز نے مصباح الحق کو جنھجھلا دیا جو نیوزی لینڈ کی بساط جلد سے جلد لپیٹنے کا سوچ کر آئے تھے۔

دن کی آٹھویں ہی گیند پر یاسر شاہ نے مارک کریگ کا پتہ صاف کر دیا تھا لیکن اس کے بعد آخری وکٹ حاصل کرنے کے لیے پاکستانی بولروں کو مزید 91 گیندوں کا انتظار کرنا پڑ گیا۔

اس دوران انھیں سوڈھی کی’جارحیت‘ بھی سہنی پڑی۔

ابوظہبی ٹیسٹ کی جیت میں وہی نام شہ سرخیوں میں رہے ہیں جو آسٹریلیا کے خلاف بھی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوڈھی کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ ان کا کچھ بھی داؤ پر نہیں لگا ہوا اس لیے وہ کھل کر کھیلے

یونس خان، اظہر علی، مصباح الحق اور احمد شہزاد نے جو بنیاد رکھی اس پر راحت علی، عمران خان، ذوالفقار بابر اور یاسرشاہ نے جیت کی بلند عمارت کھڑی کر دی۔

وکٹ میں تیز بولروں کے لیے کچھ بھی نہ تھا لیکن راحت علی نے دونوں اننگز میں ہدف پر گیندیں کرنے کا ثمر چھ وکٹوں اور کریئر کے پہلے مین آف دی میچ ایوارڈ کی صورت میں پایا۔

یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر نے مہارت سے نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں کے گرد گھیرا تنگ کیا اور ان کی سپن کھیلنے کی کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

آسٹریلیا کے خلاف کلین سویپ کے بعد یہ جیت پاکستانی ٹیم کی مستقل مزاجی ظاہر کر رہی ہے۔

یہ وہی مصباح ہیں اور یہ وہی ٹیم ہے جو سری لنکا کے دورے اور پھر آسٹریلیا کے خلاف محدود اووروں کی سیریز میں مایوسی کی انتہا کو پہنچ چکی تھی لیکن پھر ایک اچھی کارکردگی ایک اچھی جیت نے سب کچھ بدل دیا۔

آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ کی جیت نے ٹیم اور مصباح الحق کو جو اعتماد دیا وہی اب کام آ رہا ہے۔

248 رنز کی اس جیت نے مصباح الحق کو پاکستان کا کامیاب ترین کپتان بھی بنا دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راحت علی نے دونوں اننگز میں ہدف پر گیندیں کرنے کا ثمر چھ وکٹوں اور کریئر کے پہلے مین آف دی میچ ایوارڈ کی صورت میں پایا

پہلے انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ کی مشترکہ تیز ترین سنچری بنا کر اپنے ناقدین کا اپنی سست بیٹنگ کے بارے میں منھ بند کر دیا اور اب اس جیت سے وہ اس اعتراض کا بھی موثر جواب دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ اگر وہ دفاعی انداز کے کپتان ہیں تو پھر پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان کیسے بن گئے؟

اس جیت کو ایک اور کلین سویپ کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ابھی قبل از وقت ہے لیکن خارج از امکان بھی نہیں کیونکہ پاکستانی ٹیم جیت کے لیے درکار تمام ہتھیاروں سے لیس ہے اور اپنی تمام تر حکمت عملی کو عمدگی سے عملی شکل بھی دے رہی ہے۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم نے دو سال قبل سری لنکا میں پہلا ٹیسٹ ہارنے کے بعد دوسرا ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کر دی تھی اور کپتان برینڈن میک کلم کے خیال میں ان کی ٹیم یہاں بھی ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تاہم اس کے لیے وہ اپنے کھلاڑیوں سے غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ٹاس کے معاملے میں قسمت کی یاوری کو بھی ضروری سمجھ رہے ہیں۔

پاکستان نے لگاتار کامیابیاں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے حاصل کی ہیں اور سب کو انتظار اس بات کا ہے کہ پہلے بولنگ کرتے ہوئے اس کی کارکردگی کیسی رہتی ہے۔

اسی بارے میں