فیڈرر فائنل سے دستبرار، جاکووچ اے ٹی پی ورلڈ ٹور کے فاتح

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فیڈرر 2013 میں کمر کی تکلیف میں مبتلا ہوئے تھے اور سنیچر کو سیمی فائنل کے اختتامی لمحات میں بھی تکلیف میں دکھائی دیے تھے

سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ٹینس کھلاڑی راجر فیڈرر کمر میں تکلیف کی وجہ سے اے ٹی پی ورلڈ ٹور کے فائنل مقابلے سے دستبردار ہوگئے۔

اتوار کو کھیلے جانے والے فائنل میں ان کا مقابلہ سربیا کے عالمی نمبر ایک کھلاڑی نواک جاکووچ سے ہونا تھا جنھیں فیڈرر کے اعلان کے بعد اس ٹورنامنٹ کا فاتح قرار دے دیا گیا۔

یہ لگاتار تیسرا سال ہے کہ جاکووچ سال کے اس آخری ٹورنامنٹ میں فاتح رہے ہیں۔

33 سالہ راجر فیڈرر فائنل میچ کے آغاز سے قبل کورٹ پر آئے اور تماشائیوں سے میچ نہ کھیلنے پر معذرت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو میچ کھیلنے کے لیے فٹ نہیں سمجھتے اس لیے فائنل سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

فیڈرر ماضی میں چھ مرتبہ اس ٹورنامنٹ کے فاتح رہ چکے ہیں اور سنیچر کو سیمی فائنل میں انھوں نے ہم وطن سٹین واویرنکا کو شکست دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ لگاتار تیسرا سال ہے کہ جاکووچ سال کے اس آخری ٹورنامنٹ میں فاتح رہے ہیں

اپنے کریئر میں 17 مرتبہ ٹینس کے گرینڈ سلیم مقابلے جیتنے والے فیڈرر نے اتوار کو او ٹو ایرینا میں موجود تماشائیوں کو مخاطب کرتے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ آپ صورتحال سمجھیں گے۔ اسی لیے میں ذاتی طور پر آ کر بتانا چاہتا تھا۔‘

فیڈرر نے کہا کہ ’میں نے میچ کھیلنے کے لیے تیار ہونے کی خاطر آخر تک ہر ممکن کوشش کی لیکن میں اس سطح پر نواک کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ میری عمر میں یہ خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔‘

فیڈرر 2013 میں کمر کی تکلیف میں مبتلا ہوئے تھے اور سیمی فائنل کے اختتامی لمحات میں وہ تکلیف میں دکھائی دیے تھے۔

اس موقع پر ٹرافی وصول کرنے کے بعد 27 سالہ نواک جاکووچ نے کہا کہ ’میں اس طریقے سے نہیں جیتنا چاہتا تھا۔ یہ ایک شاندار کامیابی ہے لیکن اس وقت اس کے بارے میں بات کرنا مشکل ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں ان کھلاڑیوں میں سے نہیں جو اس قسم کی جیت پر خوشی منائیں۔

اسی بارے میں