خاموش ماحول میں خاموش کرکٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی کھلاڑی دبئی ٹیسٹ کے پہلے روز پورے دن میں تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے

تماشائیوں سے خالی دبئی سٹیڈیم کے خاموش ماحول میں پہلے دن کرکٹ بھی چپ چاپ رہی ۔

آسٹریلیا کے خلاف دونوں ٹیسٹ میچوں کی ہلچل دیکھنے کے بعد یہ خاموشی زیادہ محسوس کی گئی ۔

نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں نے پورا دن تین سے بھی کم رن ریٹ سے دو سو تنتالیس رنز بناکر گزار دیا اور پاکستان کے فور مین بولنگ اٹیک کو اس کوشش میں صرف تین وکٹیں حاصل ہوسکیں۔

نیوزی لینڈ کے لیے اطمینان بخش بات ٹام لیتھم کی سیریز میں دوسری سنچری تھی لیکن پاکستان کے لیے پریشانی کی بات یہ تھی ایک ایسی پچ پر جہاں وکٹ حاصل کرنا آسان نہیں دو کیچز ہاتھوں سےنکل گئے ۔

پاکستانی ٹیم تین تبدیلیوں کے ساتھ یہ ٹیسٹ میچ کھیل رہی ہے۔

اوپنر احمد شہزاد کے بعد محمد حفیظ ہمسٹرنگ کے سبب کھیلنے کے قابل نہ ٹھہرے اور یوں پچھلے تین ٹیسٹ میچوں میں باہر بیٹھے توفیق عمر اور شان مسعود کو ایک ساتھ میدان میں اترنے کا موقع مل گیا۔ توفیق عمر کی ٹیم میں واپسی دو سال بعد ہوئی ہے۔

فاسٹ بولر عمران خان کو مزید تھکاوٹ سے بچانے کے لیے آرام دیتے ہوئے احسان عادل کو ٹیم میں شامل کیا گیا جو گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے خلاف سنچورین میں ٹیسٹ کھیلے تھے۔

نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈن مک کیولم نے ابوظہبی ٹیسٹ ہارنے کے بعد ٹاس جیت کر ایک بڑے سکور کی خواہش ظاہر کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نوجوان لیگ سپنر یاسر شاہ نے پھونک پھونک کر قدم آگے بڑھانے والے راس ٹیلر کی وکٹ حاصل کی لی

ان کی خواہش کا پہلا حصہ تو پورا ہوچکا دوسرے کی تکمیل ان کے بیٹسمینوں کے ہاتھوں میں ہے ۔

مصباح الحق نے مسلسل تین ٹیسٹ میچوں کے بعد پہلا ٹاس ہارا جس کے بعد وہ بیٹنگ وکٹ پر اپنے چار بولرز کو دونوں اینڈز سے تبدیل کرکے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

پاکستانی ٹیم کو پانچویں بولر کی حیثیت سے محمد حفیظ کی کمی یقیناً محسوس ہو رہی ہے جو نہ صرف ہمسٹرنگ کی تکلیف سے دوچار ہیں بلکہ ان کا بولنگ ایکشن بھی رپورٹ ہوچکا ہے اور اس کی درستگی کے لیے ان کے پاس اکیس روز ہیں۔

تیسرے سیشن میں مصباح الحق کو پانچویں بولر کے طور پر اظہرعلی کو استعمال کرنا پڑا جنہوں نے اپنی فرسٹ کلاس کرکٹ ہی لیگ سپنر کے طور پر شروع کی تھی۔

احسان عادل جنہوں نے کپتان برینڈن مک کیولم کی وکٹ حاصل کی اس لحاظ سے بدقسمت رہے کہ ٹام لیتھم کے خلاف ایل بی ڈبلیو کا ریویو صرف اس لیے ان کے خلاف گیا کیونکہ وہ امپائر کی کال تھی جنہوں نے لیتھم کو ناٹ آؤٹ قرار دیا تھا۔

ذوالفقار بابر کی انتہائی خوبصورت گیند نے ولیم سن کے دفاع میں شگاف ڈالا یوں تیس اوورز کے صبر آزما انتظار کے بعد پاکستانی ٹیم کو دوسری کامیابی حاصل ہوسکی۔

آخری سیشن میں دوسرا ریویو بھی ہاتھ سے گیا۔

احسان عادل کی گیند راس ٹیلر کے پیڈ پر ضرور لگی تھی لیکن وہ نہ صرف اوپر تھی بلکہ گیند آف سٹمپ کے باہر پچ ہوئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیوزی لینڈ کے نوجوان اوپنر ٹام لیتھم نے سیریز میں دوسری سنچری سکور کی

لیتھم ایک سو تیرہ کے سکور پر احسان عادل کی گیند پر اظہرعلی کے ہاتھوں کیچ ہونے سے بچے ۔اظہرعلی کی اسی غلطی نے ذوالفقار بابر کی گیند پر راس ٹیلر کو گیارہ کے سکور پر فرار ہونے کا راستہ دکھایا۔

راس ٹیلر کا پھونک پھونک کر قدم بڑھانا زیادہ دیر نہ چلا اور وہ لیگ سپنر یاسر شاہ کی اس اننگز میں پہلی وکٹ بنے۔

پاکستانی ٹیم کو نئی گیند کے ساتھ ساتھ دو نئے ریویو بھی ملے لیکن ٹام لیتھم کسی کے ہاتھ آنے کے لیے تیار نہ تھے۔

اسی بارے میں