فیفا نے عالمی کپ کی میزبانی سے متعلق شکایت درج کروا دی

تصویر کے کاپی رائٹ all sport getty

فٹبال کی تنظیم ’فیفا‘ نے عالمی کپ کی ممکنہ بدعنوانی سے متعلق دو سالہ تحقیقات کے بعد سوئٹزرلینڈ کے اٹارنی جنرل کو ’مجرمانہ شکایت‘ درج کروائی ہے۔

فیفا کی جانب سے بھیجی جانے والی شکایت سنہ 2018 اور 2022 کے عالمی کپ کے لیے بولی لگانے کے عمل سے منسلک افراد سے متعلق ہے۔

تاہم فیفا کا کہنا ہے کہ اس کا یہ اقدام روس اور قطر کو عالمی کپ کی میزبانی دینے کے فیصلے پر منفی اثر نہیں ڈالے گا۔

فیفا کے غیر جانبدار نگران ہانس جوئچم ایکرٹ کا کہنا ہے کہ عالمی کپ کے لیے بولی لگانے کے عمل پر اعتراض کے لیے کافی ثبوت موجود نہیں ہے۔

فیفا کے اس اقدام کو ادارے کی آزاد گورننس کیمٹی کے رکن الیگزینڈر ریج نےگذشتہ برس تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو سے بات کرتے ہوئے الیگزینڈر ریج کا کہنا تھا ’فیفا کے اس اقدام سے جوابات سے زیادہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فیفا کی جانب سے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کریں کہ سوئٹزرلینڈ کے اٹارنی جنرل کو ’مجرمانہ شکایت‘ پیش کرنے کے لیے کافی ثبوت ہیں تاہم عالمی کپ کی بولی لگانے کے عمل پر اعتراض کے لیے کافی ثبوت موجود نہیں ہیں جس کی کوئی توجیح نہیں ہے۔

فیفا کے غیرجانبدار نگران ہانس جوئچم ایکرٹ نے گذشتہ ہفتے 42 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں روس اور قطر پر بد عنوانی کا الزام عائد نہیں کیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک پر بالترتیب سنہ 2018 اور 2022 کے عالمی کپ کی میزبانی پر اٹھنے والے تمام خدشات دم توڑ گئے۔

سنہ 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی قطر کو دینے کا فیصلہ سنہ 2010 میں ہوا تھا اور اس عمل کے دوران اس نے آسٹریلیا، امریکہ ، جنوبی کوریا اور جاپان کو شکست دی تھی۔

خیال رہے کہ برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے الزام لگایا تھا کہ قطر کو سنہ 2022 کے فٹ بال کی عالمی کپ کی میزبانی کا حق دیے جانے کے لیے فیفا کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے قطری رکن محمد بن حمام نے مختلف حکام کو لاکھوں پاؤنڈ ادا کیے تھے۔

ان الزامات کے بعد قطر کی میزبانی منسوخ کرنے کے مطالبات سامنے آئے تھے۔

قطر میں سنہ 2022 کے فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے بولی لگانے والی کمیٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے ’کسی قسم کی بدعنوانی‘ کی تردید کی تھی۔

کمیٹی نے برطانوی اخبار کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا محمد بن حمام سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا۔

اسی بارے میں