کیویز نے پاکستانی بیٹنگ کے پر کتر ڈالے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty images
Image caption مصباح الحق کا آغاز مثبت تھا لیکن انھیں نئی گیند کی قیمت چکانی پڑی

تین ٹیسٹ میچوں میں بیٹنگ کے مزے لوٹنے کے بعد پاکستانی ٹیم پہلی بار دباؤ کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔

پاکستانی بولروں نے 403 رنز کا جو قرض اپنے سر پر چڑھایا تھا، بیٹسمین اسے تاحال اتار نہیں پائے ہیں۔

تیسرے دن قرض اتارنے کی اسی کوشش میں پاکستان کی چھ وکٹیں گر چکی ہیں جبکہ ابھی بھی 120 رنز باقی ہیں۔

یونس خان اور اظہر علی کی وکٹ پر موجودگی سے بڑے سکور کی امید بندھی تھی لیکن پچھلے میچوں میں بڑے سکور کے ذمہ دار ٹرائیکا کی وکٹیں گر جانے کے بعد نیوزی لینڈ کی ٹیم کو پہلی اننگز میں اہم برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

یونس خان اور اظہرعلی نے توقعات کے عین مطابق بیٹنگ شروع کی اور ایک اور سنچری پارٹنرشپ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے لیکن یونس خان نے چھٹے ٹیسٹ میچ میں چھٹی سنچری سکور کرنے کا موقع ضائع کر دیا۔

انھوں نےجیمز نیشم کی بے ضرر گیند پر وکٹ دے کر اسے اہم بنا دیا۔

مصباح الحق کا آغاز مثبت تھا لیکن انھیں نئی گیند کی قیمت چکانی پڑی۔ بولٹ کی گیند پر سلپ میں راس ٹیلر کے کیچ سے جیسے نیوزی لینڈ کی ٹیم ہوا میں اڑنے لگی۔

اس کی یہ خوشی اس وقت سنبھالے نہ سنبھل رہی تھی جب اسے اظہرعلی کی وکٹ بھی مل گئی۔

اظہر علی بھی یونس خان کی طرح ’سیونٹیز‘ میں آؤٹ ہو کر سنچری سے محروم رہے۔

پاکستان کی یہ پانچویں وکٹ 220 کے اسکور پر گری تھی جس کے بعد اسد شفیق اور وکٹ کیپر سرفراز احمد پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ ٹیم کو اس مشکل سے نکال لیں گے۔ لیکن اسد شفیق نے جو پچھلے تین ٹیسٹ میچوں میں صرف دو بار ہی بیٹنگ کر سکے تھے، طویل انتظار کے بعد ملنے والے اس موقعے سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔

ٹم ساؤدی کی گیند کو انھوں نے بھی سلپ کی راہ دکھائی جہاں راس ٹیلر تیار تھے۔

اسد شفیق کو اس سے قبل اس وقت لائف لائن ملی تھی جب انھوں نے بولٹ کی گیند کو چھوڑ دیا جو انھیں بولڈ کر گئی لیکن نوبال ہونے کی وجہ سے وہ اپنی وکٹ بچا گئے۔

پاکستانی ٹیم کی آخری امید اب سرفراز احمد کے دم سے ہے جنھوں نے حالیہ میچوں میں وکٹ کیپنگ سے زیادہ اپنی شاندار بیٹنگ سے موجودگی کا پتہ دیا ہے۔ وہ 28 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں اگر انھوں نے اپنی وکٹ بچائے رکھی اور انہیں ٹیل اینڈرز کا ساتھ میسر رہا تو پھر سکور بورڈ چلتا رہے گا۔

اسی بارے میں