’باقی زندگی خوف کے سائے میں گزرے گی‘

Image caption فایدرہ الماجد کے مطابق وہ فیفا میں ’چیزیں مخفی رکھنے کے چلن‘ سے نالاں تھیں

قطر پر سنہ 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے حصول میں بدعنوانی کے الزامات عائد کرنے والی خاتون فایدرہ الماجد کا کہنا ہے کہ ان کی بقیہ زندگی خوف کے سائے میں گزرے گی۔

فٹبال کی نگران عالمی تنظیم فیفا کے غیرجانبدار تفتیش کار نے دو سالہ تحقیقات کے بعد حال ہی میں اپنی رپورٹ میں قطر کو ان الزامات سے بری کر دیا ہے۔

فایدرہ الماجد نے ان تحقیقات کے دوران اپنے الزامات کو دوہرایا تھا اور پھر 2011 میں یہ الزامات واپس لے لیے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات کی وجہ سے انھیں ’خوف اور دھمکیوں کے نئے دور‘ کا سامنا کرنا پڑا۔

قطری حکام نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ’ان افراد پر لگنے والے الزامات تحقیقات اور جائزے کے بعد مسترد کر دیے گئے۔‘

فایدرہ نے کہا تھا کہ قطری حکام نے فیفا کے تین ارکان کو ووٹ لینے کے لیے رشوت دی تاہم بعد میں انھوں نے بیانِ حلفی میں ان الزامات کو جھوٹ قرار دیا تھا۔

اب فایدرہ کا کہنا ہے کہ ان پر اپنا بیان تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا: ’جب قطری حکام نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں اکیلی تھی۔ میرا کوئی وکیل نہیں تھا۔ میں اکیلے دو بچے پالتی ہوں جن میں سے ایک معذور ہے۔‘

ان کے مطابق ستمبر 2011 میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے حکام نے بھی ان سے رابطہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے قطر کے انتخاب کو حیرت سے دیکھا گیا تھا

’انھوں نے مجھ سے قطر کی بولی کے طریقۂ کار کے علاوہ ان دھمکیوں کے بارے میں بھی پوچھا جو مجھے قطریوں نے دی تھیں۔‘

فایدرہ الماجد کے مطابق وہ فیفا میں ’چیزیں مخفی رکھنے کے چلن‘ سے نالاں تھیں اور انھوں نے تمام معلومات گارسیا کو دیں جب وہ 2018 اور 2022 کے ورلڈ کپ مقابلوں کی بولی کے معاملات میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کر رہے تھے۔

تاہم رواں برس 13 نومبر کو اس 430 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے خلاصے میں جج ہانس یوآخیم ایکرٹ نے کہا ہے کہ فایدرہ کے ثبوتوں میں تسلسل نہیں تھا جس سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی۔

ان کے مطابق فایدرہ کے برعکس قطری حکام نے ان تحقیقات کے دوران ’مکمل اور اہم‘ مدد کی۔

خیال رہے کہ 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی قطر کو دینے کا فیصلہ 2010 میں ہوا تھا اور اس عمل کے دوران اس نے آسٹریلیا، امریکہ ، جنوبی کوریا اور جاپان کو شکست دی تھی۔

قطر کے انتخاب کو حیرانی کی نظر سے دیکھا گیا تھا اور بعدازاں اس سارے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے تھے۔

اسی بارے میں