چوتھی اننگز میں ہاتھ پاؤں پھولنے کی روایت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کپتان مصباح نے پانچ گیندوں کا سامنا کیا صفر پر آؤٹ ہو گئے

دبئی ٹیسٹ کے چوتھے دن جب پاکستانی سپنرز کسی کے قابو میں نہیں آ رہے تھے یہ سوال بڑی اہمیت اختیار کرگیا تھا کہ کیا پاکستانی بیٹسمین آخری دن نیوزی لینڈ کے بولرز کا مقابلہ کر پائیں گے؟

آخری دن وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔پاکستانی ٹیم نے چوتھی اننگز میں ہاتھ پاؤں پھولنے کی روایت سے منہ نہیں موڑا۔

دبئی ٹیسٹ میچ کا آخری روز تصاویر میں

وہ تو بھلا ہو سرفراز احمد اور اسد شفیق کا جو اسے شکست سے خطرے سے دور لے گئے۔ دونوں نے اپنی رفاقت میں انہتر گیندیں گزاریں اور میچ پر ڈرا کی مہر لگاکر سکون کا سانس لیا۔

پاکستانی بیٹنگ اس ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں مشکلات سے دوچار رہی۔

نیوزی لینڈ کے بولرز کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے پہلی اننگز میں پاکستانی ٹیم کو اپنے سے آگے نہیں بڑھنے دیا اور دوسری اننگز میں میچ جیتنے نہیں دیا۔

برینڈن مک کیولم نے دوسری اننگز میں راس ٹیلر کی سنچری اور ٹم ساؤدی کے چھکوں سے لطف اندوز ہونے کے بعد ڈکلیریشن کا جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے پاکستانی بیٹسمینوں کے سامنے 72 اوورز میں 261 رنز بنانے کا چیلنج رکھا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption راس ٹیلر نے 12 چوکوں کی مدد سے 104 رنز بنائے

پاکستانی ٹیم کے لیے یہ صورتحال کم وبیش اسی سال کے اوائل میں سری لنکا کے خلاف شارجہ ٹیسٹ جیسی تھی۔

شارجہ ٹیسٹ میں اسے صرف 59 اوورز میں302 رنز کا ہدف ملا تھا جو اس نے پانچ وکٹوں پر حاصل کر لیا تھا لیکن اس بار کم سکور والا ہدف پاکستانی ٹیم کے لیے درد سر بن گیا اور وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں کی وجہ سے اسے جیت کے بجائے ڈرا کے بارے میں ہی سوچنا پڑا۔

احمد شہزاد اور محمد حفیظ کی کمی پاکستان نے دونوں اننگز میں شدت سے محسوس کی۔

توفیق عمر سے نہ پہلی اننگز میں رنز بن سکے نہ وہ دوسری اننگز میں وہ اعتماد دکھا سکے جس کی ٹیم کو ضرورت تھی۔

توفیق عمر کو ڈراپ کرنے کی وجہ چند ہی ماہ پہلے تک یہ بتائی جاتی رہی کہ سلیکٹرز مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر انھیں منتخب کر کے شاید سلیکٹرز نے اپنے دیکھنے کی سمت تبدیل کردی ہے۔

گذشتہ 10 سال کے دوران توفیق عمر کی میچ کی چوتھی اننگز میں مایوس کن کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 16 اننگز میں ان کا سب سے بڑا سکور صرف انتالیس ہے۔

پاکستانی ڈریسنگ روم میں اس وقت بے چینی اپنی انتہا کو پہنچتی ہوئی نظر آئی جب کھانے کے وقفے کے بعد صرف پانچ رنز کے اضافے پر شان مسعود، اظہرعلی اور کپتان مصباح الحق کی وکٹیں گرگئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یاسرشاہ نے اپنے ٹیسٹ کریئر میں پہلی بار اننگز میں پانچ وکٹوں کا مزا لیا

یونس خان اور اسد شفیق نے تقریباً 24 اوورز تک نیوزی لینڈ کے کسی بولر کو سر اٹھانے نہیں دیا لیکن یونس خان کے آؤٹ ہونے سے میچ بچانے کی کوششوں کو جھٹکا لگا اس موقع پر پہلی اننگز کے سنچری میکر سرفراز احمد اور اسد شفیق نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے بولرز کو مزید کسی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونے دیا۔

کم ہوتی ہوئی روشنی نے نیوزی لینڈ کی امیدوں کو بھی مدھم کر دیا۔ اس میچ میں پاکستانی سپنرز نے ایک بار پھر زبردست بولنگ کی۔

ذوالفقار بابر اور یاسر شاہ کی جوڑی سعید اجمل کی غیرموجودگی محسوس نہیں ہونے دے رہی۔ نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز میں گرنے والی تمام نو وکٹیں ان دونوں بولرز کے بٹوارے میں گئیں۔

یاسرشاہ نے اپنے ٹیسٹ کریئر میں پہلی بار اننگز میں پانچ وکٹوں کا مزا لیا۔اس اماراتی دورے کے چار ٹیسٹ میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد 23 ہو چکی ہے۔

ذوالفقاربابر کا وار اس سے زیادہ مہلک رہا ہے جو انہی چار ٹیسٹ میچوں میں 27 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں اس طرح یہ دونوں بولرز آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ان میچوں میں وکٹوں کی نصف سنچری مکمل کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں