یہ اعزاز پہلی جیت سے کہیں زیادہ اہم ہے: لوئس ہملٹن

لیوس ہیملٹن نے پرچم لہرا کر اپنی جیت کی خوشی منائی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

لیوس ہیملٹن نے پرچم لہرا کر اپنی جیت کی خوشی منائی

برطانوی فارمولا ون کار ریسر لوئس ہیملٹن نے ابوظہبی گراں پری مقابلوں میں اپنی ٹیم کے ساتھی نیکو روزبرگ کو شکست دے کر چیمپیئن شپ اپنے نام کر لی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان یہ جیت ان کی سنہ 2008 کی پہلی جیت سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے جس میں انھوں نے میکلیرن کی ٹیم کو شکست دی تھی۔

انھوں نے کہا: ’یہ پہلی جیت سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ یہ بہت دنوں کے بعد آئی ہے۔ میں بہت زیادہ خوش قسمت محسوس کر رہا ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ بہت ہی ناقابل یقین سال رہا۔ ایک غیر مرئی تجربے کا احساس ہو رہا ہے۔‘

اس جیت کے ساتھ ہی ہیملٹن دو عالمی چیمپیئن شپ جیتنے والے چوتھے برطانوی ریسر بن گئے ہیں۔ ان سے قبل جم کلارک، گراہم ہل بھی دو عالمی خطاب جیت چکے ہیں جبکہ سر جیکی سٹیوارٹ سے وہ ایک قدم پیچھے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہnone

،تصویر کا کیپشن

چیمپیئن شپ جیتنے کے بعد انھوں نے شیمپین کی بوتل کھول کر جشن منایا

جرمنی کے ریسر مائیکل شوماکر سب سے زیادہ سات بار عالمی خطاب جیتنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں جبکہ ان دنوں سیبسچین ویٹل کو سب سے زیادہ کامیاب فارمولا ون ریسر مانا جا رہا ہے۔ ان کے پاس چار عالمی خطابات ہیں۔

مرسیڈیز کار ریسر ہیملٹن کے ایک دوسرے ہم عصر ریسر فرنینڈو الونزو نے بھی دو عالمی چیمپیئن شپ میں کامیابی حاصل کر رکھی ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کو ابوظہبی گراں پری فارمولا ون ریس جیتنے کے بعد انھوں نے نیکو روسبرگ کو 67 پوائنٹس سے شکست دی۔

ہیملٹن نے اس سیزن کا اختتام 11 مقابلوں میں فتح کے ساتھ کیا ہے جبکہ روزبرگ کے نام پانچ کامیابیاں رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن

اتوار کو ابوظہبی گراں پری فارمولا ون ریس میں انھوں نے اپنی ہی ٹیم کے ساتھی نیکو روزبرگ کو 67 پوائنٹس سے شکست دی

انھوں نے کہا کہ ابوظہبی کے یاس میرینا میں ریس کے دوران وہ زبردست طور پر جذباتی خلفشار کا شکار تھے۔

انھوں نے کہا: ’ان سب کو جذب کرنا بہت مشکل ہے۔ میں سو نہیں سکا، رات میں 12 بجے سونے گیا اور صبح پانچ بجے بیدار ہو گيا۔ پھر دوڑ لگانے گیا اور سوچتا رہا کہ جب ریس کے لیے جاؤں گا تو بہت تھک چکا ہوں گا لیکن میں بہت پرسکون تھا۔

’میرے گھر کے لوگوں نے ناشتے پر آ کر مجھے حیران کر دیا۔ میں چاہتا تھا کہ وہ یہاں ہوں لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ آیا میں انھیں وقت دے سکوں گا یا نہیں۔میں نہیں چاہتا تھا کہ میں آخر میں کہوں کہ کاش میں نے یہ کیا ہوتا یا وہ کیا ہوتا۔‘

شہزادہ ہیری نے کار میں نصب ریڈیو پر ان کو مبارکباد دی۔ وہ اس ریس کو دیکھ رہے تھے۔