’بولروں کا جارحانہ رویہ اور انداز نہیں بدلےگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ آسٹریلوی بیٹسمین فلپ ہیوز کی باؤنسر لگنے سے موت کے نتیجے میں نوجوان فاسٹ بولرز پرگہرے اثرات مرتب ہوں گے اور وہ اپنا جارحانہ انداز چھوڑ سکتے ہیں۔

سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ فلپ ہیوز کی موت کے بعد ہیلمٹ کی بناوٹ میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ بیٹسمینوں کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جاسکے۔

وقاریونس نے شارجہ سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ’اس میں کوئی شک نہیں کہ فلپ ہیوز کی موت ایک افسوسناک واقعہ ہے جس نے کرکٹ کی دنیا کو سوگوار کر دیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی تمام تر ہمدردی فلپ ہیوز کے خاندان اور کرکٹ آسٹریلیا سے ہے لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ یہ واقعہ نوجوان فاسٹ بولرز پر ایسا کوئی اثر چھوڑے گا جس سے ان کے رویوں اور بولنگ کے جارحانہ انداز میں کوئی تبدیلی آئے گی۔‘

وقار یونس نے کہا کہ یہ واقعہ فاسٹ بولر شان ایبٹ پر ضرور اثر انداز ہو سکتا ہے جن کی گیند پر فلپ ہیوز جان سے گئے اور انھیں اس کے اثر سے نکلنے کے لیے ہو سکتا ہے کہ ماہر نفسیات سے رجوع کرنا پڑے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ کرکٹ میں اس طرح کے خطرات بھی موجود ہیں لیکن جہاں تک بیٹسمینوں کے لیے حفاظتی سازوسامان کا تعلق ہے وہ پہلے ہی بڑی تعداد میں استعمال ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے کو مینوفیکچرنگ کا قصور نہیں کہا جاسکتا تاہم کھیلوں کا سامان بنانے والی کمپنیاں اس واقعے کے بعد حفاظتی نقطۂ نظر سے اپنے سازوسامان پر نظرثانی ضرور کریں گی کہ ان جگہوں کو بھی محفوظ بنایا جا سکے جہاں گیند لگنا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ کاکہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد بیٹسمینوں اور وکٹ کے قریب فیلڈنگ کرنے والے کھلاڑیوں کی حفاظت کی ضرورت بڑھ گئی ہے اور اس پر کافی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

رمیز راجہ کہتے ہیں ’ہو سکتا ہے کہ اب فاسٹ بولرز ٹیل اینڈرز کو باؤنسرز کرنا کم کر دیں یا بالکل نہ کریں۔ آج کل باؤنسرز کی حد بھی مقرر ہوچکی ہے اور بیٹسمینوں کو باؤنسرز کھیلنے کی عادت بھی نہیں رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بیٹسمینوں کو اپنی تکنیک کے لحاظ سے اپنے جسم کے غیر محفوظ حصوں کی حفاظت کرنی ہوگی۔

سبابق کپتان کے مطابق کھیلوں کا سامان بنانے والوں کو اب بیٹسمینوں کی تکنیک کے لحاظ سے ہیلمٹ بنانے ہوں گے اور ان کمپنیوں کے لیے یہ بہت بڑا چیلنج ہوگا۔

اسی بارے میں