سلیکشن اور کارکردگی میں عدم تسلسل نئی بات نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چند ماہ قبل تک ٹیم کی آنکھ کا تارہ رہنے والے فواد عالم سے سلیکٹرز نے آنکھیں پھیر لیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کا اتنا ہی فقدان ہے جتنی غیر مستقل مزاجی سلیکشن میں نظرآتی ہے۔

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے جیتتے جیتتے پاکستانی ٹیم آخری ٹیسٹ میں اتنی بری طرح ہاری جس کی کسی کو بھی توقع نہیں تھی اور اس ٹیسٹ میچ کے بعد جب محدود اوورز کے میچز کے لیے ٹیم کا اعلان ہوا تو چند ناموں کے ’ان‘ اور ’ آؤٹ‘ ہونے پر سلیکشن میں بھی تسلسل کا فقدان واضح طور پر دکھائی دیا۔

صرف چند ماہ پہلے تک ٹیم کی آنکھ کا تارا بنے رہنے والے فواد عالم سے سلیکٹرز نے آنکھیں پھیرلیں۔

یہ وہی فواد عالم ہیں جنہوں نے اسی سال ایشیا کپ میں ایک سنچری اور ایک نصف سنچری بنائی تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان نے انہیں سب سے بہادر بیٹسمین قرار دیا لیکن سری لنکا اور آسٹریلیا کے خلاف چند چھوٹی اننگز کھیلنے کے بعد ان کی ٹیم سے چھٹی کردی گئی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ فواد عالم نے اس سال ون ڈے انٹرنیشنل میں ایک سنچری اور دو نصف سنچریوں کی مدد سے345 رنز بنائے ہیں جو احمد شہزاد کے 434 رنز کے بعد کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کے سب سے زیادہ رنز ہیں۔

آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کے بعد انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ڈبل سنچری اور دو نصف سنچریاں بنائی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فواد عالم کے ٹیم سے باہر ہونے کی ایک وجہ یونس خان جیسے سینئر بیٹسمین کی ٹیم میں شمولیت بھی ہے،چیف سلیکٹر

اوپنر ناصر جمشید کی انٹری اس لیے حیران کن ہے کہ انہوں نے 2013 میں بھارت کے خلاف مسلسل دو ون ڈے سنچریاں سکور کی تھیں۔ جس کے بعد سے وہ بائیس اننگز میں صرف دو نصف سنچریاں سکور کر پائے تھے۔

چنانچہ انہیں ڈراپ کردیا گیا تھا تاہم اب انہیں پاکستان اے کی طرف سے متحدہ عرب امارات کی ٹیم کے خلاف ایک سنچری اور ایک نصف سنچری کی بنیاد پر ٹیم میں دوبارہ شامل کیا گیا ہے۔

فاسٹ بولر سہیل تنویر کے بارے میں کرکٹ کے حلقوں میں یہ عام رائے ہے کہ وہ ہر دور میں سلیکٹرز کی گڈبک میں رہتے ہیں اور اوسط درجے کی کارکردگی کے باوجود ٹیم کا حصہ بن جاتے ہیں۔

سہیل تنویر کی ون ڈے انٹرنیشنل میں کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 59 ون ڈے میچوں میں ان کی بولنگ اوسط 35 ہے اور ہر اوور میں انہوں نے اوسطاً پانچ سے زائد رنز دیے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے20 ون ڈے ایسے کھیلے ہیں جن میں ان کے دیے گئے رنز کی تعداد 50 سے زائد ہے۔

آسٹریلیا کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز کے آخری میچ میں ان کی تین وکٹوں کی کارکردگی سے اوپر دیکھیں تو ڈھائی سال پہلے انہوں نے کسی میچ میں تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔

سہیل تنویر نے بیٹسمین کی حیثیت سے بھی کسی کو متاثر نہیں کیا ہے ساڑھے چار سال پہلے اپنی واحد نصف سنچری ہانگ کانگ کے خلاف بنانے کے بعد سے وہ صرف دو بار کسی اننگز میں 30 رنز بناپائے ہیں۔

چیف سلیکٹر معین خان کا کہنا ہے کہ فواد عالم کے ٹیم سے باہر ہونے کی ایک وجہ یونس خان جیسے سینیئر بیٹسمین کی ٹیم میں شمولیت بھی ہے کہ جب کوئی سینیئر بیٹسمین ٹیم میں آتا ہے تو پھر کسی نہ کسی کو 11 رکنی ٹیم سے باہر ہونا پڑتا ہے، لیکن فواد عالم سمیت کسی بھی کرکٹر پر دروازے بند نہیں ہوئے ہیں اگر دو ون ڈے میچوں کے بعد ضرورت پڑی تو انہیں ٹیم میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

معین خان کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم جن وکٹوں پر کھیلے گی ان پر اسے تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ جارحانہ انداز سے کھیلنے والے کرکٹرز کی بھی ضرورت ہوگی اور اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے درست کامبی نیشن کی کوشش کی جارہی ہے۔

معین خان اوپنر ناصر جمشید کی سلیکشن کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گزشتہ سال وہ مکمل طور پر ناکام نہیں ہوئے تھے البتہ چھوٹی اننگز کو بڑے سکورمیں تبدیل نہیں کرپائے تھے لیکن وہ باصلاحیت بیٹسمین ہیں۔

سہیل تنویر کے بارے میں معین خان کا کہنا ہے کہ وہ ایک کارآمد کرکٹر ہیں جنہوں نے اگرچہ کوئی بڑی اور غیرمعمولی پرفارمنس نہیں دی ہے لیکن چھوٹی چھوٹی پرفارمنس سے انہوں نے اپنی موجودگی کا احساس ضرور دلایا ہے اور پندرہ رکنی سکواڈ کا حصہ بننے کے اہل تھے۔ انہیں مستقل اچھی کارکردگی دکھاکر اس ٹیم کا حصہ بنانا پڑے گا۔

اسی بارے میں