’ایف آئی ایچ کا نہیں بھارت کا فیصلہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سابق کپتان حنیف خان نے بھی دو کھلاڑیوں پر ایک میچ کی پابندی کو ناانصافی پر مبنی قرار دیا

پاکستان کے سابق اولمپیئنز نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی جانب سے پاکستان کے دو کھلاڑیوں پر ایک میچ کی پابندی کے فیصلے کو جانبدارانہ اور بھارتی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ امجد علی اور توثیق احمد اس پابندی کے نتیجے میں چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل نہیں کھیل سکیں گے۔

تیسرے کھلاڑی شفقت رسول کو وارننگ دی گئی ہے۔

ان تینوں پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے بھارت کےخلاف سیمی فائنل کی جیت کے بعد جشن مناتے وقت تماشائیوں کی جانب نازیبا اشارے کیے تھے۔

اس واقعے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ سیمی فائنل کے بعد پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ شہناز شیخ نے ٹورنامنٹ ڈائریکٹر سے معافی مانگ لی تھی اور ایف آئی ایچ نے کسی بھی قسم کی کارروائی کا کوئی عندیہ نہیں دیا تھا۔ تاہم اتوار کے روز ہاکی انڈیا کے صدر کے بیان کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کو ایف آئی ایچ نے طلب کرکے ان کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا۔

سابق کپتان سمیع اللہ نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ دو کھلاڑیوں پر پابندی کا فیصلہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کا اپنا نہیں بلکہ ہاکی انڈیا کے زبردست دباؤ کا نتیجہ ہے اور اس سے ظاہر ہوگیا ہے کہ ایف آئی ایچ بھارت کے ہاتھوں ہائی جیک ہو چکی ہے۔

سمیع اللہ نے کہا کہ کھلاڑی جیت کا جشن مناتے ہیں اور شرٹس اتار کر جشن منانا کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں بھی نہیں آتی۔ یہ واقعہ بھی اتنا بڑا نہیں تھا جتنا بھارتی میڈیا اور فیڈریشن نے بنادیا۔

ایف آئی ایچ چاہتی تو وہ پاکستانی کھلاڑیوں کو صرف وارننگ دے کر چھوڑ سکتی تھی لیکن ہاکی انڈیا نے اسے انا کا مسئلہ بنا لیا اور دو کھلاڑیوں پر پابندی لگا کر پاکستانی ہاکی ٹیم کا مورال گرانے کی کوشش کی گئی ہے۔

سابق اولمپیئن اصلاح الدین کا کہنا ہے کہ فائنل سے چند گھنٹے پہلے اچانک کھلاڑیوں پر ایک میچ کی پابندی کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دباؤ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

اصلاح الدین کہتے ہیں کہ ہاکی انڈیا نے اس معاملے کو اتنا بڑھا چڑھاکر اپنی ٹیم کی ہوم گراؤنڈ پر شکست سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امجد علی اور توثیق احمد اس پابندی کے نتیجے میں چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل نہیں کھیل سکیں گے

سابق اولمپیئن حسن سردار کا کہنا ہے کہ ’سیمی فائنل کے فوراً بعد ہی ٹورنامنٹ ڈائریکٹر نے شہناز شیخ کی وضاحت قبول کر لی تھی اور اس وقت کسی بھی کھلاڑی کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی بات نہیں کی گئی تھی۔ پھر فائنل والے دن دو کھلاڑیوں پر پابندی کی صرف ایک ہی وجہ نظر آتی ہے کہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن بھارت کے دباؤ میں تھی کیونکہ ہاکی انڈیا کے صدر نے دھمکی دے دی تھی کہ وہ آئندہ ایف آئی ایچ کے کسی ایونٹ کی میزبانی نہیں کریں گے۔‘

سابق کپتان حنیف خان نے بھی دو کھلاڑیوں پر ایک میچ کی پابندی کو ناانصافی قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی کھلاڑی کے خلاف کارروائی کرنی تھی تو وہ سیمی فائنل کے بعد کردی جاتی لیکن فائنل کی صبح تک ایف آئی ایچ کی طرف سے ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ہاکی انڈیا کے صدر کا بیان سامنے آیا جس میں انھوں نے آئندہ ایف آئی ایچ کے ٹورنامنٹس کی میزبانی نہ کرنے کی دھمکی دے ڈالی اور پھر ایف آئی ایچ کا فیصلہ بھی آگیا۔

اسی بارے میں