سٹیون سمتھ آسٹریلوی ٹیسٹ ٹیم کے نئے کپتان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آسٹریلوی سلیکٹرز نے صرف 23 ٹیسٹ میچوں کا تجربہ رکھنے والے سمتھ کو ہیڈن پر ترجیح دی ہے

کرکٹ آسٹریلیا نے بھارت کے خلاف بقیہ ٹیسٹ میچوں کے لیے زخمی مائیکل کلارک کی جگہ سٹیون سمتھ کو آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا ہے۔

مائیکل کلارک ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے پہلے کرکٹ ٹیسٹ کے دوران ہیمسٹرنگ کی تکلیف میں مبتلا ہوگئے تھے۔

25 سالہ سمتھ آسٹریلیا کے 45ویں اور تیسرے کم عمر ترین ٹیسٹ کپتان ہوں گے اور وہ بدھ سے برزبین میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میں ٹیم کی قیادت سنبھالیں گے۔

کرکٹ آسٹریلیا نے ان کی نیابت کے لیے بریڈ ہیڈن کا انتخاب کیا ہے۔

ہیڈن نے پہلے ٹیسٹ میں مائیکل کلارک کی عدم موجودگی میں ٹیم کی قیادت بھی کی تھی۔

مائیکل کلارک کی جگہ لینے کے لیے متوقع امیدوار بریڈ ہیڈن ہی تھے لیکن سلیکٹرز نے صرف 23 ٹیسٹ میچوں کا تجربہ رکھنے والے سمتھ کو ترجیح دی ہے۔

آسٹریلیا کے چیف سلیکٹر راڈنی مارش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم ملک کی نمائندگی اور قیادت کا اعزاز ملنے پر سمتھ کو مبارکباد دیتے ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سمتھ ایک غیرمعمولی نوجوان ہیں اور قومی سلیکشن پینل نہ صرف ان کی انفرادی کارکردگی بلکہ قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امکان ہے کہ آئندہ کبھی نہ کھیل سکوں۔میں پرامید ہوں کہ ایسا نہیں ہوگا لیکن آپ کو حقیقت پسند بھی ہونا چاہیے: مائیکل کلارک

33 سالہ مائیکل کلارک سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں اپنے کریئر کے اختتام کا اشارہ دے چکے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ آئندہ کبھی نہ کھیل سکیں۔ ’میں پرامید ہوں کہ ایسا نہیں ہوگا لیکن آپ کو حقیقت پسند بھی ہونا چاہیے۔‘

کلارک ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں فیلڈنگ کے دوران زخمی ہوئے تھے جبکہ اس سے قبل بیٹنگ کے دوران بھی کمر میں تکلیف کی وجہ سے انھیں باہر جانا پڑا تھا۔

انھیں ہیمسٹرنگ کی تکلیف نومبر میں جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کے دوران ہوئی تھی اور ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں ان کی شرکت بھی مشکوک تھی۔

تاہم کلارک نے اپنے آنجہانی دوست فل ہیوز کی یاد میں اس ٹیسٹ میں شرکت کرنے کا اعلان کیا تھا اور تکلیف ہونے کے باوجود سنچری بنائی تھی۔

اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے وہ ٹیسٹ میچ کھیلنے پر کوئی پشیمانی نہیں اور نہ ہی یہ افسوس ہے کہ میں ریٹائرڈ ہرٹ ہونے کے باوجود میدان میں گیا۔ وہ میرے کریئر کا اہم ترین ٹیسٹ میچ تھا۔‘

اسی بارے میں