ایسا نہیں ہے کہ کپتان بدلنے سے جیتے: وقاریونس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’سعید اجمل اور محمد حفیظ کے نہ ہونے کے سبب پانچویں بولر کا مسئلہ سب سے اہم ہے‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقاریونس یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ شارجہ کے تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستانی ٹیم کی جیت صرف اور صرف کپتان کی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔

واضح رہے کہ مصباح الحق کے ہمسٹرنگ میں مبتلا ہونے کے سبب نیوزی لینڈ کے خلاف تین میچوں میں کپتانی شاہد آفریدی کو سونپی گئی ہے اور ان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے تیسرے ون ڈے میں147 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

میچ کے بعد وقار یونس سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ جیت اس لیے ممکن ہوئی کہ کپتان تبدیل ہوا تھا؟ جس پر وقار یونس کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ شاہد آفریدی نے اس میچ میں عمدہ کپتانی کی لیکن یہ کہہ دینا کہ یہ جیت صرف اور صرف کپتان کے تبدیل ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے یہ زیادتی ہوگی۔

وقار یونس کو امید ہے کہ کپتان مصباح الحق تین چار ہفتے میں مکمل فٹ ہو جائیں گے اور ان کی فٹنس پر کام جاری ہے ۔

یاد رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کے لیے 21 جنوری کو آسٹریلیا روانہ ہوگی۔

وقار یونس کا کہنا ہے کہ ایک بھاری بھرکم سکور کے ساتھ بڑی جیت کے باوجود ٹیم کی متعدد خامیوں پر کام کر کے انھیں دور کرنے کی ضرورت ہے جن میں فیلڈنگ سرفہرست ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعید اجمل اور محمد حفیظ کے نہ ہونے کے سبب پانچویں بولر کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔ کوشش ہے کہ محمد حفیظ ورلڈ کپ سے قبل کلیئر ہو جائیں۔

حارث سہیل نے دو میچوں میں عمدہ بولنگ کر کے اعتماد حاصل کیا ہے۔ احمد شہزاد کی بولنگ بھی کام کیاجا رہا ہے تاکہ وہ بھی اس کمی کو پورا کر سکیں۔مقصد یہ ہے کہ ٹیم میں ایسے کھلاڑی ہوں جو بیٹنگ کے ساتھ ساتھ بولنگ بھی کر سکیں۔

یونس خان کی ون ڈے کارکردگی کے بارے میں وقار یونس کا کہنا ہے کہ کسی بھی بیٹسمین کے لیے ٹیسٹ سے فوری طور پر ون ڈے میں آ کر ایڈجسٹ کر لینا آسان نہیں ہوتا۔

وقار یونس کا وکٹ کیپرسرفراز احمد کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ ایک فائٹر ہیں جنھوں نے اس طویل دورے میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔وکٹ کیپنگ میں ابھی بھی بہتری کی گنجائش ہے جس پر کام ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں