’بھارت میں ختم ہونے والا کبڈی ٹورنامنٹ غیر سرکاری تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے پاکستان کی کبڈی ٹیم کے کپتان احمد شیفق کی جانب سے فائنل میں امپائروں کی جانب سے مبینہ طور بھارت کا ساتھ دینے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی ہے

انٹرنیشنل کبڈی فیڈریشن (آئی کے ایف) نے کہا ہے کہ بھارت میں حال ہی میں منعقد کیے جانے والا کبڈی کا عالمی کپ غیر سرکاری تھا۔

آئی کے ایف نے بھارتی پنجاب کے شہر لدھیانہ کے گرو نانک سٹیڈیم میں بھارت اور پاکستان کے درمیان 15 دسمبر کو کھیلے جانے والے فائنل میچ پر اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے پاکستان کو کبڈی کے چوتھے عالمی چیمپیئن شپ کے فائنل میں نو پوائنٹوں سے ہرا کر اپنے ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کیا تھا۔

آئی کے ایف کے سی ای او دیوراج چٹورویدی نے ڈان نیوز کو بتایا کہ بھارت میں منعقد ہونے والا کبڈی کا حالیہ ٹورنامنٹ غیر سرکاری تھا اور اس کے لیے آئی کے ایف سے رجوع نہیں کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت میں کھیلے جانے والے اس ٹورنامنٹ میں متعدد ٹیموں نے حصہ لیا تاہم آپ اسے عالمی کپ نہیں کہہ سکتے۔‘

دیوراج چٹورویدی کے بقول ’متعدد کبڈی فیڈریشنوں نے نہ ہم سے رابطہ کیا اور نہ ہی ہم نے اس ٹورنامنٹ کی منظوری دی۔ ہم بھارت کو کبڈی کا عالمی چیمپیئن تسلیم نہیں کرتے کیونکہ یہ ورلڈ کپ تھا ہی نہیں۔‘

انھوں نے بھارتی فیڈریشن کے فائنل میں مقامی امپائروں کے تقرر کے فیصلے پر بھی حیرانی کا اظہار کیا۔

آئی کے ایف کے سی ای او کا کہنا تھا کہ قوانین کے مطابق فائنل میچ کے لیے امپائروں کا تعلق فائنل کھیلنے والی دونوں ٹیموں سے نہیں ہونا چاہیے۔

دیوراج چٹورویدی نے کہا کہ بین الاقوامی فیڈریشن نے فائنل میچ کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر صرف بیان جاری کیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے پاکستان کی کبڈی ٹیم کے کپتان احمد شیفق کی جانب سے فائنل میں امپائروں کی جانب سے مبینہ طور بھارت کا ساتھ دینے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی خواتین کبڈی ٹیم کی کپتان مدیحہ لطیف نے بھی بھارت میں حالیہ ختم ہونے والے کبڈی ٹورنامنٹ میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایحنسی اے پی پی کے مطابق مدیحہ لطیف کا کہنا تھا کہ بھارت کی ٹورنامنٹ مینیجمنٹ کے منفی حربوں اور غیر موزوں شیڈیول کی وجہ سے پاکستان کی خواتین ٹیم کو کانسی کے تمغے کے لیے مقابلہ کرنا پڑا۔

نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کبڈی ٹورنامنٹ کے دوران پاکستان کی خواتین کھلاڑیوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ ہماری ٹیم نے سخت مقابلے کے بعد انگلینڈ کو سیمی فائنل میں 37-39 سے شکست دی۔

مدیحہ لطیف کے مطابق ہماری ٹیم کو مسلسل تین میچ کھیلنا پڑے جس کی وجہ سے ہم نیوزی لینڈ کے خلاف اہم میچ ہار گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نیوزی لینڈ کے خلاف بھی جیت سکتے تھے تاہم مسلسل میچ کھیلنے کی وجہ سے ہماری کارکردگی متاثر ہوئی۔

پاکستان کی خواتین کی کبڈی ٹیم کی کپتان کے مطابق ہمیں ٹورنامنٹ کے میچوں کے دوران مناسب وقفہ ملنا چاہیے تھا تاہم ٹورنامنٹ مینیجمنٹ نے جان بوجھ کر ہماری کارکردگی کو خراب کرنے کے لیے ایسا شیڈیول رکھا۔

اسی بارے میں