شین وارن جیسا بننا چاہتا ہوں: یاسر شاہ

یاسر شاہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یاسر شاہ نے حال ہی میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچوں میں بہترین کاردگی دکھائی تھی

پاکستان کے لیگ سپنر یاسر شاہ کی خواہش ہے کہ وہ اگلے سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بہتر کاردگی دکھائیں۔ یاسر مایہ ناز آسٹریلوی سپنر شین وارن سے بہت متاثر ہیں۔

انھوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’میں نے شین وارن سے متاثر ہو کر کرکٹ شروع کی، وہ میرے رول ماڈل ہیں اور میری دعا ہے کہ میرا نام ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل ہو۔‘

وارن نے ٹیسٹ میچوں میں 708 اور ایک روزہ میچوں میں 293 وکٹ حاصل کی ہیں اور انھیں کرکٹ کی تاریخ کا عظیم لیگ سپنر مانا جاتا ہے۔

28 سالہ یاسر شاہ نے کہا کہ ’وارن نے بطور سپنر کرکٹ کو اپنے انداز اور جارحانہ باؤلنگ کی وجہ سے بدل دیا ہے۔ میں ان کی راہ پر چلنا چاہتا ہوں اور یہ میرا خواب ہے کہ میں آسٹریلیا میں کچھ کر کے دکھاؤں۔‘

شاہ پاکستان کے 30 رکنی ابتدائی سکواڈ میں شامل ہیں اور سعید اجمل اور محمد حفیظ جیسے تجربہ کار باؤلروں کی غیر موجودگی میں جن کے بین الاقوامی کرکٹ میں باؤلنگ کرنے پر پابندی ہے، پاکستان کے باؤلنگ اٹیک کی بھاری ذمہ داری ان ہی کے کاندھوں پر ہے۔

چیف سیلیکٹر معین خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ’یقیناً آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف بہترین پرفارمنس کے بعد وہ ہمارے ورلڈ کپ پلان میں شامل ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہ کا نام ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کے تیس رکنی ابتدائی سکواڈ میں شامل ہے

شاہ جو کہ صوبے خیبر پختونخوا کے چھوٹے سے شہر سوابی سے تعلق رکھتے ہیں آج کل شین وارن کی باؤلنگ کی ویڈیو فٹیج دیکھ کر اپنے آپ کو ایک روزہ کرکٹ میں ایک بڑا کردار ادا کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔

’میں نے ان کی ویڈیوز دیکھی ہیں خصوصاً کہ وہ آسٹریلوی پچوں کو کس طرح استعمال کرتے تھے۔ میں اپنی گگلی کو چھپانے اور مزید کارآمد بنانے کے لیے اس پر بہت محنت کر رہا ہوں۔‘

وہ آسٹریلیا میں بہتر کارکردگی دکھانے کے متعلق کافی مطمئن ہیں جہاں ان کے بقول پچز پر اضافی باؤنس ان کی مدد کرے گا۔

’آسٹریلیا جا کر جو پہلا کام میں کرنا چاہتا ہوں وہ وہاں نیٹس پر وارن کے ساتھ کچھ وقت گزارنا ہے۔ میں نے پڑھا ہے کہ وہ مجھے گیند کرتے ہوئے دیکھنا اور کچھ ٹپس بھی دینا چاہتے ہیں۔ یہ بڑا زبردست ہو گا۔‘

شاہ سابق لیگ سپنرز انتخاب عالم، مشتاق محمد، عبدالقادر، مشتاق محمد اور دانش کنیریا کی طرز کی بولنگ کرنے والے باؤلر ہیں۔ دانش کنیریا نے 2012 میں سپاٹ فکسنگ کے الزام کے سامنے آنے اور تاحیات باؤلنگ پر پابندی لگنے کے بعد کرکٹ چھوڑ دی تھی۔

شاہ کہتے ہیں: ’میری لیگ سپن اچھی ہے اور میں نے اپنے فلپر کو بھی شین وارن کی طرز پر کر لیا ہے۔ لیکن اب مجھے ورلڈ کپ میں کامیابی کے لیے اپنی گگلی کو ایک وکٹ لینے والی ڈلیوری بنانا ہے۔‘

شاہ نے ستمبر 2011 میں زمبابوے کے خلاف ایک ایک روزہ میچ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے تھے لیکن ان میں وہ کوئی شاندار کارکردگی نہ دکھا سکے تھے، تاہم حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ہونے والے ٹیسٹ میچوں میں انھوں نے زبردست کارکردگی دکھائی اور کل 27 وکٹیں حاصل کیں۔

اسی بارے میں