’میرا ہر فیصلہ ملک اور ٹیم کے مفاد میں رہا اور رہے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعید اجمل کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مداحوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ان کا مستقبل اچھے ہاتھوں میں ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آف سپنر سعید اجمل کا کہنا ہے کہ ان کا ’ہر فیصلہ پاکستان اور پاکستانی ٹیم کے بہترین مفاد میں ہوتا ہے اور رہے گا‘۔

انھوں نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہی ہے۔

مشکوک بولنگ ایکشن کی وجہ سے انٹرنیشنل کرکٹ سے دور ہونے والے سعید اجمل نے حال ہی میں کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنی ٹویٹ میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں اچھے ہاتھوں میں ہوں اور میری خواہشات کا خیال رکھا جا رہا ہے۔‘

سعید اجمل کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مداحوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ان کا مستقبل اچھے ہاتھوں میں ہے۔ ’اس مشکل وقت میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور چیئرمین نے مجھے سب سے زیادہ سہارا دیا ہے۔‘

آف سپنر نے کہا کہ پاکستانی ٹی وی چینل دنیا نیوز پر ان کے حوالے سے جاری کردہ بیان بے بنیاد ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سعید اجمل کی ٹیسٹ کروانے کی خواہش کو رد کیا تھا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین شہریار خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بولنگ ایکشن کا بائیو میکنک ٹیسٹ نہ کروانے اور کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ سعید اجمل نے خود لیا ہے۔

کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ثقلین مشتاق اور جو ماہرین سعید اجمل کا بولنگ ایکشن درست کروانے میں ان کی مدد کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ابھی سعید اجمل تجزیے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

سعید اجمل نے جوکہ مشکوک بولنگ ایکشن کی وجہ سے آئی سی سی کی جانب سے پابندی کی زد میں ہیں، آل راؤنڈر محمد حفیظ کے ہمراہ اپنے بولنگ ایکشن کے غیر رسمی بائیو میکنک ٹیسٹ کے لیے بھارتی شہر چنئی جانا تھا۔

خیال رہے کہ سعید اجمل کا بولنگ ایکشن اس سال اگست میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان گال میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں قواعد وضوابط کے منافی قرار پایا تھا جس کے بعد انھیں برسبین کی لیبارٹری میں بھیجا گیا تھا جس کی رپورٹ کے مطابق ان کی کہنی کا خم 40 ڈگری تھا۔

سعید اجمل کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے گذشتہ ماہ غیرسرکاری تجزیے کے لیے انگلینڈ بھیجا تھا جہاں ڈاکٹر کنگ نے ان کے بارے میں رپورٹ دی کہ کہنی کا خم اب بھی 15 ڈگری کی قانونی حد سے نیچے نہیں آیا ہے اور اس پر ابھی بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں