دھونی کی جگہ کون پر کرےگا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلے بازی میں تو کوئی بھی سابق بھارتی وکٹ کیپر دھونی کے آس پاس بھی نہیں ہے

ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع کہنے والے بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور وکٹ کیپر مہندر سنگھ دھونی کے فیصلے سے بہت سے کرکٹ کے شائقین اب بھی سکتے میں ہیں۔

اب بڑا سوال یہ کہ بھارتی ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اچھے وکٹ کیپر اور ایک بہترین بلے باز کے طور پر ان کی جگہ کون لے سکےگا؟

ردھمان ساہا اور نمن اوجھا جیسے بعض نئے کھلاڑیوں کے نام زیر بحث ضرور ہیں لیکن ان کے لیے دھونی جیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا یا ان جیسی کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔

دھونی کا متبادل تلاش کرنے سے پہلے ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی کارکردگی پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

دھونی اپنے پانچویں ون ڈے میچ میں ہی پاکستان کے خلاف 148 رنز بنا کر راتوں رات ہیرو بن گئے تھے اور اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری بھی پاکستان کے خلاف ہی بنائی تھی۔ اتفاق سے یہ ان کا پانچواں ٹیسٹ میچ تھا اور انھوں نے اس میں بھی 148 کی ہی اننگ کھیلی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وکٹ کے پیچھے بھی دھونی کی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو اعداد و شمار انہیں بھارت کا بہترین وکٹ کیپر بتاتے ہیں

دھونی نے مجموعی طور 90 ٹیسٹ میچ میں 6 سنچریاں اور 33 نصف سنچریوں کی مدد سے 4876 رنز بنائے ہیں۔

بہترین وکٹ کیپر

وکٹ کے پیچھے بھی دھونی کی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو اعداد و شمار انھیں بھارت کا بہترین وکٹ کیپر بتاتے ہیں۔

مہندر سنگھ دھونی نے 90 ٹیسٹ میچوں میں 256 کیچ پکڑے اور 38 سٹمپنگ کیں۔ جبکہ اس سے پہلے سیّد كرماني نے 88 ٹیسٹ میچوں میں 160 کیچ اور 38 سٹمپ کیے۔

کرن مورے کے 49 ٹیسٹ میں 110 کیچ اور 20 سٹمپ ہیں۔ نین مونگیا کے 44 ٹیسٹ میں 99 کیچ اور 8 سٹمپ ہیں جبکہ فروخ انجنیئر کے 46 ٹیسٹ میں 66 کیچ اور 16 سٹمپ ہیں۔

بلے بازی میں تو کوئی بھی سابق بھارتی وکٹ کیپر دھونی کے آس پاس بھی نہیں ہے۔

كرماني کے نام 2759 رن، مورے کے نام 1285 رن، مونگیا کے نام 1442 رنز اور فروخ انجنیئر کے نام 2611 رنز درج ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مہندر سنگھ دھونی بین الاقوامی سطح پرانگلینڈ کے سابق کرکٹر ایلین ناٹ کے قریب نظر آتے ہیں۔

مہندر سنگھ دھونی بین الاقوامی سطح پرانگلینڈ کے سابق کرکٹر ایلین ناٹ کے قریب نظر آتے ہیں۔ ناٹ نے 95 ٹیسٹ میچوں میں 5 سنچریوں اور 30 نصف سنچریوں کی مدد سے 4389 رن بنائے تھے۔ انہوں نے 250 کیچ پکڑے اور 19 سٹیمپ بھی کیے تھے۔

سنگاکارا کے آس پاس

ویسے تو سری لنکا کے کرکٹر کمار سنگاکارا کا ریکارڈ دھونی سے بہت اچھا ہے لیکن سنگاکارا نے اپنے ہر ٹیسٹ میں وكٹ كيپنگ نہیں کی ہے۔ رنز کے معاملے میں وہ دھونی سے بہت آگے ہیں لیکن وكٹ كيپنگ میں دھونی کا ریکارڈ ان سے بہتر ہیں۔

سنگا کارا نے 130 میچوں میں 38 سنچریاں اور 51 نصف سنچریاں سکور کر چکے ہیں۔ انہوں نے اب تک 12203 رنز بنائے ہیں اور وکٹ کیپر کی حیثیت سے 178 کیچ اور 20 سٹمپ کیے ہیں۔

اب اگر ردھمان ساہا کی بات کی جائے تو ان کے پاس صرف چار ٹیسٹ میچوں کا تجربہ ہے۔ انھوں نے فرسٹ کلاس کے 66 میچوں میں 3843 رنز بنائے ہیں اور وکٹ کے پیچھے 130 کیچ لیے ہیں۔

ساہا کی عمر 30 برس کی ہے یعنی ان کا بہترین وقت انتظار میں نکل چکا ہے۔

دوسری طرف نمن اوجھا نے 106 فرسٹ کلاس میچوں میں 7438 رنز سکور کرنے کے ساتھ ساتھ 299 کیچ اور 38 سٹمپ کیے ہیں۔ ان کی عمر31 برس ہے۔ ظاہر ہے کہ دھونی کی جگہ پر کرنا آسان نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں