’ورلڈ کپ میں جانے سے پہلے انضمام الحق سے ملوں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صہیب مقصود ورلڈ کپ کی ٹیم میں شمولیت پر خوش ہیں لیکن انھیں اس بات کا بخوبی اندازہ بھی ہے کہ یہ ایک بہت بڑا امتحان ہے

انضمام الحق اگرچہ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہوچکے ہیں اور اب ان کا زیادہ تر وقت دینی سرگرمیوں میں گزر رہا ہے لیکن آج بھی نوجوان کرکٹرز یہ خواہش رکھتے ہیں کہ انھیں انضمام الحق سے کچھ سیکھنے کا موقع مل سکے۔

یہ خواہش ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی صہیب مقصود کی بھی ہے۔

صہیب مقصود چاہتے ہیں کہ ورلڈ کپ میں جانے سے پہلے ان کی ملاقات انضمام الحق سے ہوجائے اور وہ ان سے بیٹنگ کے گرُ سیکھ سکیں۔

’میری انضمام الحق سے باقاعدہ ملاقات نہیں رہی ہے۔ میں جب کرکٹ میں آیا تو وہ ریٹائر ہو چکے تھے۔ ملتان میں آئی ڈی پیز کے میچ کے موقع پر میں ان سے ملا تھا اور کافی مشورے ان سے لیے لیکن میں چاہتا ہوں کہ ورلڈ کپ میں جانے سے قبل ان سے ملوں۔ ان کے بھتیجے میرے بہت ہی اچھے دوست ہیں ان کے توسط سے ان سے ملوں گا تاکہ ان سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی وکٹوں پر بیٹنگ کے بارے میں رہنمائی لے سکوں۔‘

صہیب مقصود اور انضمام الحق میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں کا تعلق ملتان سے ہے اور صہیب مقصود جس کلب سے کھیلتے ہیں انضمام الحق وہیں آ کر نیٹ پریکٹس کیا کرتے تھے لیکن صہیب مقصود یہ تسلیم کرتے ہیں کچھ بھی ہو انضمام الحق تک پہنچنا آسان نہیں۔

’انضمام الحق میرے فیورٹ کرکٹر ہیں اور میں نے انھیں ہمیشہ اپنا آئیڈیل رکھا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک ہی شہر کے ہونے کے ناطے اور ایک قد کاٹھ کی وجہ سے مجھے اپنے کریئر کے شروع میں لوگ ان سے ملتا جلتا کہتے تھے لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کے نام تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔‘

صہیب مقصود ورلڈ کپ کی ٹیم میں شمولیت پر خوش ہیں لیکن انھیں اس بات کا بخوبی اندازہ بھی ہے کہ یہ ایک بہت بڑا امتحان ہے۔

’صرف ورلڈ کپ کھیلنا ہی بڑی بات نہیں ہے اس میں اچھی کارکردگی بھی ضروری ہے اور کوشش یہی ہوگی کہ سنہ 1992 میں پاکستان نے آسٹریلیا نیوزی لینڈ میں جس طرح عالمی کپ جیتا تھا اس تاریخ کو دوہرائیں۔ میں اب ٹیم میں نیا نہیں ہوں۔ سال ڈیڑھ سال سے تقریباً تمام سیریز کھیلتا رہا ہوں تو اب مجھ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ میں مڈل آرڈر میں اچھی بیٹنگ کرکے ٹیم کے کام آسکوں۔‘

صہیب مقصود کچھ عرصے سے کلائی کی تکلیف میں مبتلا تھے لیکن اب وہ خود کو مکمل فٹ محسوس کرتے ہیں۔

’فٹ ہونے کے بعد میں نے پنٹنگولر کپ کے میچز کھیلے جو میرے لیے اچھا تجربہ رہا اور میرا اعتماد بھی واپس آیا ہے۔‘

صہیب مقصود ماضی میں متعدد مرتبہ فٹنس مسائل سے دوچار رہے ہیں اور یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ کرکٹ چھوڑنے کے ڈر سے انھوں نے تعلیم بھی مکمل کرتے ہوئے ایم بی اے کیا لیکن پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب بیرون ملک ملازمت ان کی منتظر تھی لیکن انھوں نے کرکٹ کو اس پر ترجیح دی کیونکہ وہ یہی سوچا کرتے تھے کہ کرکٹ کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے۔‘

اسی بارے میں